LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں یومِ سیاہ کشمیر کی تقریب: مسئلۂ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی امنگوں اور UN قراردادوں کے مطابق ناگزیر ہے سٹار لنک صارفین کی جاسوسی کا انکشاف، اسرائیلی ایڈ ٹیک کمپنی پر سنگین الزامات امارات میں مصنوعی ذہانت اور جدید فضائی ٹرانسپورٹ کے نئے منصوبوں پر بڑی پیشرفت حوثی ملیشیا کو شکست دینے کیلئے عالمی اتحاد تشکیل دینے کی ضرورت ہے، سعودی عرب سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا، تہران میں ہونے والی بات چیت کے نکات کا جائزہ لیا گیا اسرائیل میں انتخابات کیلئے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری اردن میں یمن کا مسافر طیارہ طوفان میں پھنس گیا، ژالہ باری سے شیشے ٹوٹ گئے ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دیدی امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا ایران کی شرکت کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار سلامتی ناممکن ہے: عمان تیسرا روس افریقہ سربراہی اجلاس آج شروع ہوگا، پوتن سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے گوگل اور یوٹیوب کا بچوں کی آن لائن حفاظت یقینی بنانے کیلئے لاکھوں ڈالرز کا منصوبہ جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی دراندازی، شہری آبادی پر گولا گرنے سے ایک جاں بحق، 5 زخمی امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں: ایرانی صدر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، ٹیپو عثمان

ماہرین نے فالج کے مرض کا عندیہ دینے والی 3 عام نشانیاں بتا دیں

Web Desk

9 May 2026

طبی ماہرین نے انسانی جسم میں ظاہر ہونے والی ایسی تین عام نشانیوں کی نشاندہی کی ہے جو فالج جیسے جان لیوا مرض کا قبل از وقت اشارہ دے سکتی ہیں۔ چین کی جیانگ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں کی گئی ایک جامع تحقیق کے مطابق، مسلز کے حجم میں کمی، ہاتھوں کی گرفت کا کمزور ہونا اور چلنے کی رفتار میں سست روی کسی بھی فرد میں فالج کے خطرے میں اضافے کا واضح عندیہ ہیں۔

تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ جن افراد کے مسلز کی مضبوطی گھٹ جاتی ہے، ان میں فالج کا مجموعی خطرہ 30 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح، ہاتھ کی کمزور گرفت اس خطرے میں 7 فیصد اضافہ کرتی ہے، جبکہ چلنے کی سست رفتار سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوئی ہے، جس سے فالج کا خطرہ 64 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ یہ مطالعہ 4 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کے طویل مدتی ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فالج کی دو اہم اقسام ہیں؛ ایک جس میں دماغی شریان پھٹ جاتی ہے (برین ہیمرج) اور دوسری جس میں خون کی فراہمی بلاک ہونے سے آکسیجن کی کمی واقع ہوتی ہے۔ چونکہ فالج کا فوری علاج نہ ہونے کی صورت میں موت یا مستقل معذوری کا خدشہ ہوتا ہے، اس لیے جسمانی طاقت اور نقل و حرکت میں آنے والی ان تبدیلیوں پر نظر رکھنا بچاؤ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔