LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پہلا ون ڈے، پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹ سے ہرا دیا نیویارک حراستی مرکز کے باہر مظاہرے، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، آنسو گیس کا استعمال امریکا: میساچوسٹس کے تعلیمی اداروں میں ریچھ داخل، طلبہ کلاس رومز تک محدود رہے پاکستان ون ڈے کرکٹ میں 1000میچ کھیلنے والی تیسری ٹیم بن گئی وزیراعلیٰ نے ستھرا پنجاب ورکرز کیلئے 10ہزار فی کس انعام کا اعلان کیا ہے: مریم اورنگزیب پاکستان ایک مخلص دوست، ایران کے ساتھ اچھی ڈیل ہوگی: امریکی وزیر جنگ جیٹ فیول اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں بڑی کمی، نوٹیفکیشن جاری آئی ایم ایف کا گاڑیوں اور سولر پینلز پر سیلز ٹیکس چھوٹ برقرار رکھنے سے انکار پاکستان کی شاندار کامیابی: مسلسل پانچویں سال بھی ایراسمس منڈس اسکالرشپ حاصل کرنے میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر برقرار امریکی صدر کے نام کی شمولیت غیر قانونی قرار: کینیڈی سینٹر بند کرنے کا ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ امریکی عدالت نے معطل کر دیا حاجیوں کی وطن واپسی کے لیے سعودی عرب سے پروازوں کا آغاز کل ہوگا امریکا کا امیر ممالک کے دفاعی اخراجات کا مزید بوجھ اٹھانے سے انکار ملک بھر میں 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان کیے گئے، ٹینریز ایسوسی ایشن ٹیکس وصولی کے لیے ایف بی آر کے تمام دفاتر 30 مئی کو کھلے رہیں گے اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی واشنگٹن میں ملاقات، پاک امریکا تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ماہرین نے فالج کے مرض کا عندیہ دینے والی 3 عام نشانیاں بتا دیں

Web Desk

9 May 2026

طبی ماہرین نے انسانی جسم میں ظاہر ہونے والی ایسی تین عام نشانیوں کی نشاندہی کی ہے جو فالج جیسے جان لیوا مرض کا قبل از وقت اشارہ دے سکتی ہیں۔ چین کی جیانگ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں کی گئی ایک جامع تحقیق کے مطابق، مسلز کے حجم میں کمی، ہاتھوں کی گرفت کا کمزور ہونا اور چلنے کی رفتار میں سست روی کسی بھی فرد میں فالج کے خطرے میں اضافے کا واضح عندیہ ہیں۔

تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ جن افراد کے مسلز کی مضبوطی گھٹ جاتی ہے، ان میں فالج کا مجموعی خطرہ 30 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح، ہاتھ کی کمزور گرفت اس خطرے میں 7 فیصد اضافہ کرتی ہے، جبکہ چلنے کی سست رفتار سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوئی ہے، جس سے فالج کا خطرہ 64 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ یہ مطالعہ 4 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کے طویل مدتی ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فالج کی دو اہم اقسام ہیں؛ ایک جس میں دماغی شریان پھٹ جاتی ہے (برین ہیمرج) اور دوسری جس میں خون کی فراہمی بلاک ہونے سے آکسیجن کی کمی واقع ہوتی ہے۔ چونکہ فالج کا فوری علاج نہ ہونے کی صورت میں موت یا مستقل معذوری کا خدشہ ہوتا ہے، اس لیے جسمانی طاقت اور نقل و حرکت میں آنے والی ان تبدیلیوں پر نظر رکھنا بچاؤ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔