LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کامن ویلتھ گیمز: ارشد ندیم نے جیولین تھرو کے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا اوورسیز پاکستانیوں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم 4 اکتوبر احتجاج کیس: علیمہ اور عظمیٰ خان اشتہاری قرار، دائمی وارنٹ جاری آزاد کشمیر اسمبلی میں ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور پاکستان امریکا اور ایران کو مفاہمتی یادداشت پر واپس لانے کیلئے سرگرم ہے: دفترِ خارجہ پنجاب میں دریاؤں کی صورتحال بہتر، مون سون بارشوں کا الرٹ جاری سعودی وزیرِدفاع کی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، ولی عہد کا پیغام پہنچایا: امریکی میڈیا لاہور ہائیکورٹ: جسٹس طارق سلیم شیخ کا کرپٹو کرنسی سے متعلق اہم فیصلہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش بھارتی ایئر لائنز کیلئے بڑا دھچکا نیویارک میں ’ٹیکس ورلڈ 2026ء‘ نمائش کا انعقاد، پاکستان کی بھرپور شرکت پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان لاہور کے علاقے سکھ نہر میں مکان کی چھت گر گئی، 3 بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق جاپان: زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی، شدید گرمی اور حبس کی لہر برقرار امریکا اور ایران کی کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی امریکا کے ایک بار پھر ایران پر حملے، درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

میکسیکو کا بیٹ مین مبینہ موٹر سائیکل چوروں کو کھمبے سے باندھنے لگا

Web Desk

30 June 2026

میکسیکو کی ریاست جیلِسکو (Jalisco) کے شہر لیگوس ڈی مورینو میں ایک انتہائی سنسنی خیز اور انوکھا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں کوئی پراسرار شخص یا گروہ مبینہ موٹر سائیکل چوروں کو پکڑ کر انہیں ڈکٹ ٹیپ کی مدد سے بجلی کے کھمبوں کے ساتھ باندھ کر چھوڑ جاتا ہے، جس کے بعد پولیس انہیں وہاں سے ریسکیو کر کے اپنی تحویل میں لے رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، ہالی ووڈ کی مشہور فلم ‘بیٹ مین’ کی طرز کا یہ حیرت انگیز سلسلہ جون 2026 کے وسط میں شروع ہوا۔ سب سے پہلے 13 جون کو ایک شخص کھمبے سے بندھی ہوئی حالت میں پایا گیا، جس کی پیشانی پر واضح الفاظ میں ’چور‘ لکھا ہوا تھا جبکہ اس کے بالکل قریب ہی ایک مبینہ طور پر چوری شدہ موٹر سائیکل بھی کھڑی کی گئی تھی۔ اس پہلے واقعے کے بعد سے اب تک کم از کم مزید چار افراد اسی طرح شہر کے مختلف حصوں میں کھمبوں سے بندھے ہوئے مل چکے ہیں۔

علاقے کے مقامی افراد کا ماننا ہے کہ یہ کارروائیاں کسی ایک نامعلوم ’وِجلانٹے‘ (قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر جرائم کے خلاف لڑنے والا پراسرار شخص) کی ہیں۔ تاہم، دوسری جانب سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ عین ممکن ہے کہ اس انوکھی مہم کے پیچھے کوئی منظم گروہ کام کر رہا ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک پولیس کو کھمبوں سے بندھی حالت میں ملنے والے پانچوں افراد میں سے کسی نے بھی اس پراسرار واقعے یا اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں کوئی وضاحت یا بیان نہیں دیا ہے۔

جیلِسکو سیکریٹیریٹ آف پبلِک سیکیورٹی کے سربراہ ‘ہوان پیبلو ہرنینڈز’ نے میڈیا کو بتایا کہ ان واقعات کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ اس کے پیچھے چھپے ذمہ دار افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔ انہوں نے حکومتی مؤقف واضح کرتے ہوئے زور دیا کہ کھمبوں سے بندھے ملنے والے پانچوں افراد کو قانونی طور پر فی الحال ‘متاثرہ افراد’ تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ ریاست میں کسی بھی شہری یا نامعلوم گروہ کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی قطعی اجازت نہیں دی جا سکتی، چاہے ان کا مقصد کتنا ہی نیک یا جرائم کا خاتمہ ہی کیوں نہ ہو۔