LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 دہشت گرد گرفتار حکومت پیٹرول پر لیوی کا بھتہ وصول کر رہی ہے، قیمت 225 روپے ہونی چاہیے؛ حافظ نعیم الرحمن ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ برقرار اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار اسرائیل کا امریکا سے ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیارے اور پرزے فروخت نہ کرنے کا مطالبہ دہشتگردی کا مقابلہ جاری، ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی: سرفراز بگٹی این ڈی ایم اے کا دریاؤں میں طغیانی اور مقامی سیلاب کا الرٹ جاری امریکہ میں شدید بارشوں کی تباہ کاری، نیو جرسی میں ہول سیل اسٹور کی چھت گر گئی، نیویارک سمیت کئی علاقوں میں طوفانی سیلاب کی وارننگ نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا

میٹا کا مصنوعی ذہانت کی تربیت کیلئے نیا اور غیر معمولی قدم اٹھانے کا فیصلہ

Web Desk

23 April 2026

ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے مصنوعی ذہانت (AI) کو انسانی انداز میں کمپیوٹر استعمال کرنا سکھانے کے لیے ایک منفرد اور غیر معمولی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی امریکہ میں اپنے ملازمین کے کمپیوٹرز میں ایک نیا ٹریکنگ سافٹ ویئر انسٹال کر رہی ہے جو ماؤس کی حرکت، کلکس اور کی بورڈ کے استعمال کو ریکارڈ کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد ایسے اے آئی ایجنٹس تیار کرنا ہے جو مستقبل میں خودکار طریقے سے دفتری کام انجام دے سکیں۔

میٹا کی دستاویزات کے مطابق یہ ٹول مخصوص ایپس اور ویب سائٹس پر فعال ہوگا اور بعض اوقات اسکرین شاٹس بھی لیے جائیں گے تاکہ اے آئی ماڈلز کام کے سیاق و سباق کو سمجھ سکیں۔ یہ ڈیٹا میٹا کی “سپر انٹیلی جنس لیبز” استعمال کرے گی تاکہ اے آئی کی ان خامیوں کو دور کیا جا سکے جہاں وہ ابھی تک مکمل کارکردگی نہیں دکھا پا رہے، جیسے کہ ڈراپ ڈاؤن مینیو کا استعمال یا کی بورڈ شارٹ کٹس کا درست انتخاب۔

کمپنی کے ترجمان اینڈی اسٹون نے وضاحت کی ہے کہ جمع شدہ ڈیٹا صرف اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال ہوگا اور اسے ملازمین کی کارکردگی جانچنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم ایسے اے آئی ایجنٹس بنانا چاہتے ہیں جو انسانوں کی طرح کمپیوٹر چلا سکیں، تو ہمیں یہ سمجھنے کے لیے حقیقی مثالوں کی ضرورت ہے کہ لوگ عملی طور پر ماؤس کیسے چلاتے ہیں اور بٹن کیسے کلک کرتے ہیں۔ کمپنی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حساس معلومات کے تحفظ کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔