LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، کرغزستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق شام میں فرانسیسی صدر کی قیام گاہ کے قریب دو دھماکے، 18 افراد زخمی وفاقی وزیرِ خزانہ کا بڑا اقدام؛ اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ‘ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس’ قائم چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 دہشت گرد گرفتار حکومت پیٹرول پر لیوی کا بھتہ وصول کر رہی ہے، قیمت 225 روپے ہونی چاہیے؛ حافظ نعیم الرحمن ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ برقرار اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار اسرائیل کا امریکا سے ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیارے اور پرزے فروخت نہ کرنے کا مطالبہ دہشتگردی کا مقابلہ جاری، ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی: سرفراز بگٹی

نجی تصاویر ڈاؤن لوڈ کرنے والے فیس بک انجینئر کیخلاف تحقیقات شروع

Web Desk

9 April 2026

ٹیکنالوجی کی دنیا کی بڑی کمپنی میٹا (فیس بک) کا ایک سابق ملازم صارفین کی نجی تصاویر غیر قانونی طور پر ڈاؤن لوڈ کرنے کے سنگین الزام میں تحقیقات کا سامنا کر رہا ہے۔ لندن سے تعلق رکھنے والے اس سافٹ ویئر انجینئر پر الزام ہے کہ اس نے ملازمت کے دوران اپنی تکنیکی مہارت کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا مخصوص پروگرام ڈیزائن کیا تھا جو فیس بک کے سیکیورٹی فلٹرز اور چیکس کو بائی پاس کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق، اس پروگرام کے ذریعے ملزم لاکھوں صارفین کی ایسی نجی تصاویر تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا جو عام طور پر پبلک نہیں تھیں۔ میٹا کے سیکیورٹی سسٹم نے غیر معمولی سرگرمی کا سراغ لگاتے ہوئے اس خلاف ورزی کو پکڑا، جس کے بعد متعلقہ ملازم کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور اس طرح کی کسی بھی بددیانتی پر زیرو ٹولرنس پالیسی رکھتی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود صارفین کی پرائیویسی اور اندرونی خطرات (Inside Threats) کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔