LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی میں ترامیم منظور، پٹرولیم مصنوعات کے سٹریٹیجک ریزروز بڑھانے کی ہدایت کویت کے وزیر خارجہ آج 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے نیتن یاہو امریکا پہنچ گئے، ٹرمپ سے ملاقات میں ایران جنگ پر تبادلہ خیال متوقع عمران خان رہائی فورس کیس: آئینی عدالت کا فریقین کو جواب جمع کرانے کیلئے مہلت پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال بہتر، پانی کا بہاؤ معمول پر آگیا آزاد کشمیر الیکشن: ن لیگ نے 8 نشستیں جیت کر میدان مار لیا، پیپلزپارٹی 4 پرکامیاب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر مثبت رجحان صدر مملکت اور وزیراعظم کا 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کی قطری ہم منصب سے ملاقات، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق انتخابی عمل کا پہلا مرحلہ آزادانہ اور شفافیت سے مکمل ہوا:چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر اقوام متحدہ کی مقبوضہ مغربی کنارے اسرائیلی بستیوں کے توسیعی منصوبے کی شدید مذمت میرپور نے شیر پر مہر لگا کر اعلان کر دیا ترقی ن لیگ سے جڑی ہے: مریم اورنگزیب تہران نے ثالثوں کے ذریعے مذاکرات میں امریکی تجاویز مسترد کردیں استحکام پاکستان پارٹی کے ایل اے 6 کے امیدوار علی شان سونی گرفتار

نجی تصاویر ڈاؤن لوڈ کرنے والے فیس بک انجینئر کیخلاف تحقیقات شروع

Web Desk

9 April 2026

ٹیکنالوجی کی دنیا کی بڑی کمپنی میٹا (فیس بک) کا ایک سابق ملازم صارفین کی نجی تصاویر غیر قانونی طور پر ڈاؤن لوڈ کرنے کے سنگین الزام میں تحقیقات کا سامنا کر رہا ہے۔ لندن سے تعلق رکھنے والے اس سافٹ ویئر انجینئر پر الزام ہے کہ اس نے ملازمت کے دوران اپنی تکنیکی مہارت کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا مخصوص پروگرام ڈیزائن کیا تھا جو فیس بک کے سیکیورٹی فلٹرز اور چیکس کو بائی پاس کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق، اس پروگرام کے ذریعے ملزم لاکھوں صارفین کی ایسی نجی تصاویر تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا جو عام طور پر پبلک نہیں تھیں۔ میٹا کے سیکیورٹی سسٹم نے غیر معمولی سرگرمی کا سراغ لگاتے ہوئے اس خلاف ورزی کو پکڑا، جس کے بعد متعلقہ ملازم کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور اس طرح کی کسی بھی بددیانتی پر زیرو ٹولرنس پالیسی رکھتی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود صارفین کی پرائیویسی اور اندرونی خطرات (Inside Threats) کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔