LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

گلے کے خطرناک وائرس نے مزید ایک بچہ جاں بحق ، تعداد 8 ہو گئی

Web Desk

30 January 2026

اندرونِ سندھ کے علاقے میہڑ میں گلے کے خطرناک وائرس پر تاحال قابو نہ پایا جا سکا، جہاں ایک اور معصوم بچہ اس وبا کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گیا۔

تفصیلات کے مطابق گلے کے وائرس میں مبتلا 12 سالہ آصف علی جسکانی انتقال کر گیا۔ متوفی بچے کے والد کا کہنا ہے کہ چند روز قبل آصف علی کو گلے کا شدید انفیکشن لاحق ہوا تھا، جس پر اسے علاج کے لیے ڈی ایچ کیو اسپتال دادو میں داخل کرایا گیا۔

والد کے مطابق بچے کا کئی دن تک علاج جاری رہا تاہم حالت میں بہتری نہ آ سکی، بعد ازاں اسے لاڑکانہ ریفر کیا گیا، جہاں بھی مناسب طبی سہولیات فراہم نہ کی جا سکیں۔ بعد میں بچے کو کراچی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا مگر وہ کراچی پہنچنے سے قبل ہی راستے میں دم توڑ گیا۔

واضح رہے کہ میہڑ میں اس خطرناک وائرس کے باعث اب تک 8 معصوم بچے جاں بحق ہو چکے ہیں، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ شہریوں نے محکمہ صحت سے فوری نوٹس لینے، مؤثر طبی اقدامات اور متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔