LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کی شاہِ اردن سے ملاقات، فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال 30 دن تک بغیر دھوئے پہنے جانے والی ٹی شٹ متعارف فرانسیسی خبر رساں ادارے کی صحافی کرسٹینا کیلئے انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ اسرائیلی آرمی چیف کا غزہ میں فوجی آپریشن جاری رکھنے کا اعلان پیٹریاٹ میزائل بنانے پر امریکا اور یوکرین کے مذاکرات، ٹرمپ کے تحفظات برقرار امریکا، چین اور روس کے درمیان محدود نوعیت کی نئی شراکت داریاں قائم جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے حملے، ایک شخص جاں بحق، 11 زخمی وزیر اعظم 2 روزہ سرکاری دورے پر آج سعودی عرب روانہ ہوں گے ایران سے ڈیل کرنا چاہتے ہیں، بات چیت جاری ہے: امریکی صدر سعودی عرب نے کشیدگی میں کمی کیلئے مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنا ناگزیر قرار دیدیا چین کا افریقی ممالک میں ایبول کی وبا کے انسداد میں تعاون جاری رکھنے کا اعلان کانگو میں ایبولا کی وبا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے نئی ویکسین کی آزمائش شروع کردی: ڈبلیو ایچ او ایران کی نئی امریکی کارروائی پر خلیج کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی وارننگ آبنائے ہرمز پر ایران کو محدود کنٹرول دینے کی تجویز زیر غور امریکا، ایران اور عمان کا آج آبنائے ہرمز سے متعلق عبوری معاہدے کا اعلان متوقع

فالج سے تحفظ فراہم کرنے والی بہترین غذا

Web Desk

7 February 2026

اگر کوئی فالج جیسے جان لیوا مرض کے خطرے کو کم کرنا چاہتا ہے تو ماہرین ایک مخصوص طرزِ خوراک کو معمول بنانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

طبی جریدے نیورولوجی اوپن ایسسز میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق بحیرۂ روم کے خطے سے منسوب غذا، جسے میڈیٹرینیئن ڈائٹ کہا جاتا ہے، خواتین میں فالج کی مختلف اقسام کے امکانات کو نمایاں حد تک گھٹا سکتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اسپین، یونان، اٹلی اور فرانس جیسے ممالک میں عام طور پر استعمال ہونے والی یہ غذا پھلوں، سبزیوں، ثابت اناج، گری دار میووں، مچھلی اور زیتون کے تیل پر مشتمل ہوتی ہے، جبکہ سرخ گوشت کا استعمال محدود رکھا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ متوازن غذائی امتزاج نہ صرف فالج کی عام قسم بلکہ دماغ میں خون رسنے یعنی برین ہیمرج کے خطرے کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس تصور کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ صحت مند غذائی عادات فالج سے بچاؤ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ خاص طور پر برین ہیمرج جیسے فالج کی قسم پر غذائی اثرات کے حوالے سے ماضی میں تحقیق نسبتاً کم رہی ہے، اس لیے یہ مطالعہ اہمیت کا حامل ہے۔اس تحقیق میں ایک لاکھ پانچ ہزار سے زائد خواتین کو شامل کیا گیا جن کی اوسط عمر 53 برس تھی اور تحقیق کے آغاز کے وقت انہیں فالج کی کوئی سابقہ تاریخ نہیں تھی۔شرکاء سے ابتدا میں سوالناموں کے ذریعے ان کی روزمرہ غذائی عادات کی تفصیلات حاصل کی گئیں، جس کے بعد 21 برس تک ان کی صحت کی نگرانی کی گئی۔ اس عرصے کے دوران 4 ہزار 83 خواتین کو فالج کا سامنا کرنا پڑا۔تمام ممکنہ عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد سائنسدانوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ جو خواتین باقاعدگی سے میڈیٹرینیئن ڈائٹ اپناتی رہیں، ان میں فالج کی مختلف اقسام کا خطرہ 16 سے 25 فیصد تک کم دیکھا گیا۔ماہرین نے یاد دلایا کہ فالج دنیا بھر میں اموات اور مستقل معذوری کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، تاہم متوازن غذا کے ذریعے اس مہلک مرض کے امکانات کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔تحقیق کاروں کے مطابق اگرچہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، لیکن یہ جاننا ابھی باقی ہے کہ یہ مخصوص طرزِ خوراک کن حیاتیاتی عوامل کے ذریعے فالج سے تحفظ فراہم کرتا ہے، تاکہ مستقبل میں مزید مؤثر غذائی رہنما اصول مرتب کیے جا سکیں۔