LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت اپوزیشن مذاکرات کا نتیجہ جلد سامنے آئے گا: شوکت یوسف زئی ستمبر میں یوکرینی فوج کے 48 ہزار اہلکار ہلاک ہوئے: روسی فوجی ماہر سکیورٹی خدشات: خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں دفعہ 144 نافذ صومالیہ میں جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں ادیس ابابا پہنچ گئیں، وطن منتقلی کے انتظامات جاری حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات، کامیابی کے دعوے، مشترکہ اعلامیہ جلد متوقع ایران کے پاس ایسا کوئی نہیں ہے جس سے مذاکرات کیے جائیں: ٹرمپ امارات نے اسرائیل جانے والی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ کو دہشتگردی قرار دیدیا برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال سیاسی جماعتوں سےامید نہیں رہی، اصلاح نہ ہوئی تو کاکروچ باہر آئیں گے: سعد رفیق پاکستانی شہریوں کے قتل پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، باضابطہ احتجاج ایف سی بلوچستان کے درجنوں میڈیکل کیمپس، ہزاروں مریضوں کا مفت علاج خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں 4 ارب 29 کروڑ روپے کی گیس چوری دوا فروخت کرنے کیلئے ڈاکٹر بھی لائسنس کا پابند ہے، وفاقی آئینی عدالت خیبر پختونخوا حکومت نے لانگ مارچ کے ذریعے بدامنی کا منصوبہ بنا لیا: خواجہ آصف فرانس میں طلبہ کا احتجاج، پولیس سے جھڑپیں، 1,747 افراد گرفتار

فالج سے تحفظ فراہم کرنے والی بہترین غذا

Web Desk

7 February 2026

اگر کوئی فالج جیسے جان لیوا مرض کے خطرے کو کم کرنا چاہتا ہے تو ماہرین ایک مخصوص طرزِ خوراک کو معمول بنانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

طبی جریدے نیورولوجی اوپن ایسسز میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق بحیرۂ روم کے خطے سے منسوب غذا، جسے میڈیٹرینیئن ڈائٹ کہا جاتا ہے، خواتین میں فالج کی مختلف اقسام کے امکانات کو نمایاں حد تک گھٹا سکتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اسپین، یونان، اٹلی اور فرانس جیسے ممالک میں عام طور پر استعمال ہونے والی یہ غذا پھلوں، سبزیوں، ثابت اناج، گری دار میووں، مچھلی اور زیتون کے تیل پر مشتمل ہوتی ہے، جبکہ سرخ گوشت کا استعمال محدود رکھا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ متوازن غذائی امتزاج نہ صرف فالج کی عام قسم بلکہ دماغ میں خون رسنے یعنی برین ہیمرج کے خطرے کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس تصور کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ صحت مند غذائی عادات فالج سے بچاؤ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ خاص طور پر برین ہیمرج جیسے فالج کی قسم پر غذائی اثرات کے حوالے سے ماضی میں تحقیق نسبتاً کم رہی ہے، اس لیے یہ مطالعہ اہمیت کا حامل ہے۔اس تحقیق میں ایک لاکھ پانچ ہزار سے زائد خواتین کو شامل کیا گیا جن کی اوسط عمر 53 برس تھی اور تحقیق کے آغاز کے وقت انہیں فالج کی کوئی سابقہ تاریخ نہیں تھی۔شرکاء سے ابتدا میں سوالناموں کے ذریعے ان کی روزمرہ غذائی عادات کی تفصیلات حاصل کی گئیں، جس کے بعد 21 برس تک ان کی صحت کی نگرانی کی گئی۔ اس عرصے کے دوران 4 ہزار 83 خواتین کو فالج کا سامنا کرنا پڑا۔تمام ممکنہ عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد سائنسدانوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ جو خواتین باقاعدگی سے میڈیٹرینیئن ڈائٹ اپناتی رہیں، ان میں فالج کی مختلف اقسام کا خطرہ 16 سے 25 فیصد تک کم دیکھا گیا۔ماہرین نے یاد دلایا کہ فالج دنیا بھر میں اموات اور مستقل معذوری کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، تاہم متوازن غذا کے ذریعے اس مہلک مرض کے امکانات کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔تحقیق کاروں کے مطابق اگرچہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، لیکن یہ جاننا ابھی باقی ہے کہ یہ مخصوص طرزِ خوراک کن حیاتیاتی عوامل کے ذریعے فالج سے تحفظ فراہم کرتا ہے، تاکہ مستقبل میں مزید مؤثر غذائی رہنما اصول مرتب کیے جا سکیں۔