LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اہم سمریوں کی منظوری دے دی نیویارک سے 36 نایاب اور چوری شدہ پاکستانی نوادرات کی واپسی، امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی ملائیشیا کا اسرائیلی فوج کیلئے امداد کو اپنے ملک سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان اقوام متحدہ کا معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دینے کا مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ کا اسرائیل کو تباہی کیلئے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم فروخت کرنے کا منصوبہ صومالی صدر کی رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات، انسانی خدمات پر تبادلہ خیال جاپانی وزیراعظم کا حکمراں جماعت اور کابینہ میں ردوبدل کا اعلان روسی حملے روکنے پر یوکرین کا بھی بعض اہداف پر حملے روکنے کا اعلان پاکستان کا حوثی حملوں کے خلاف سعودی دفاعی اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان آئندہ چند ماہ میں ایران جنگ بالکل مختلف مرحلے میں داخل ہو جائے گی، جے ڈی وینس لیتھوانیا کی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ڈرون تباہ کر دیا گیا جرمنی میں طیارہ حادثے کا شکار، 3 ڈچ شہری ہلاک کولمبیا میں 5.2 شدت کا زلزلہ امریکی ایوان نمائندگان میں روس پر پابندیاں سخت کرنے کا بل منظور

مصنوعی مٹھاس سے متعلق سائنس دانوں کا تشویشناک انکشاف!

Web Desk

7 July 2026

مصنوعی مٹھاس (آرٹیفیشل سویٹنرز) کو طویل عرصے سے چینی کا ایک صحت مند متبادل مانا جاتا رہا ہے، تاہم ایک نئی طبی تحقیق نے اس عام تصور کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ ٹفٹس یونیورسٹی کے فریڈمین اسکول آف نیوٹریشن سائنس اینڈ پالیسی کے پروفیسر مینگ وانگ اور ان کی ٹیم کی جانب سے کیے گئے 21 رینڈمائزڈ کلینیکل ٹرائلز کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ کیلوریز نہ ہونے کے برابر ہونے کے باوجود مصنوعی مٹھاس خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے کے بجائے اس کے توازن کو بگاڑ سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق، جو لوگ مصنوعی سویٹنرز کا مستقل استعمال کرتے ہیں، ان میں فاسٹنگ انسولین اور طویل مدتی شوگر کنٹرول کے اہم اشاریے ‘ایچ بی اے 1 سی’ (HbA1c) کی سطح پانی یا پلیسبو استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ دیکھی گئی، جبکہ ان میں انسولین کی حساسیت (Insulin Sensitivity) میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کے انسانی جسم اور میٹابولزم پر اثرات پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں، جس کے لیے مزید تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہے۔