LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے اسحاق ڈار سے برازیلی وزیر خارجہ کا رابطہ، عالمی امن پر تبادلہ خیال فضل الرحمان کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان شہباز شریف نے پنشنرز کیلئے ’پروف آف لائف‘ کے جدید نظام کا افتتاح کر دیا پیپلزپارٹی کے وفد کی سپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات, قانون سازی پر تبادلہ خیال وزیراعظم سے شامی وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومتی درخواست اعتراض لگا کر واپس حوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی ملاح وطن واپس، 2 میتیں بھی منتقل

تنہائی دماغ کو کمزور اور یادداشت کو متاثر کرتی ہے ، نئی تحقیق میں انکشاف

Web Desk

7 November 2025

تازہ ترین سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ تنہائی (Loneliness) نہ صرف ذہنی صحت بلکہ یادداشت کی کارکردگی کو بھی متاثر کرتی ہے، جبکہ سماجی میل جول دماغی صلاحیت کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

یہ تحقیق نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور (NUS) کے ماہرین نے کی ہے، جنہوں نے دماغ کے اہم حصے ہیپوکیمپس (Hippocampus) پر خصوصی توجہ دی، وہ حصہ جو یادداشت کے قیام اور حفاظت میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

 

سماجی تعلق اور یادداشت کا سائنسی تعلق: 

ماہرین کے مطابق، ہیپوکیمپس کے ایک مخصوص حصے CA2 میں سماجی رابطے کے دوران غیرمعمولی سرگرمی دیکھی گئی۔

یہ حصہ دماغ کے دوسرے حصے CA1 کو سگنلز بھیجتا ہے، جو طویل مدتی یادداشت (Long-term Memory) کو مضبوط بناتا ہے۔

تحقیق کے دوران جب سائنس دانوں نے تجرباتی طور پر CA2 نیورونز کی سرگرمی کو عارضی طور پر روکا، تو دیکھا گیا کہ سماجی میل جول سے حاصل ہونے والی یادداشت کی بہتری بالکل ختم ہوگئی۔

یہ نتیجہ واضح کرتا ہے کہ سماجی تعلقات دماغ کے اندر ایسے حیاتیاتی (Neurological) عمل کو فعال کرتے ہیں جو یادداشت کو بہتر بناتے ہیں، جبکہ تنہائی دماغی کمزوری کا باعث بنتی ہے۔

 

تنہائی کے خطرناک اثرات: 

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سماجی رابطوں کے مثبت اثرات عارضی ہوتے ہیں، یعنی دماغی صحت برقرار رکھنے کے لیے مسلسل سماجی سرگرمی ضروری ہے۔

طویل عرصے کی تنہائی نہ صرف یادداشت کو متاثر کرتی ہے بلکہ ڈیمنشیا (Dementia) اور دیگر دماغی بیماریوں کے خطرات کو بھی بڑھا دیتی ہے۔

مزید یہ کہ سماجی میل جول دماغ میں ایک مخصوص پروٹین کی پیداوار بڑھاتا ہے جو یادداشت کو مضبوط کرتا ہے، لیکن سماجی دوری کے باعث یہی پروٹین کم ہو جاتا ہے، جس سے یادداشت کی کمزوری جنم لیتی ہے۔

 

ماہرین کی سفارش:

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تنہائی صرف ایک جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ایک حیاتیاتی خطرہ ہے جو دماغی تنزلی (Neurodegenerative Diseases) اور نفسیاتی مسائل کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

تحقیق کرنے والی ٹیم نے تجویز دی کہ سماج میں ایسے ماحول اور سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے جو سماجی شرکت، میل جول اور کمیونٹی ایکٹیویٹیز کی حوصلہ افزائی کریں، خصوصاً بزرگ افراد اور کمزور اعصابی نظام رکھنے والوں کے لیے۔