LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکہ: ہیوسٹن میں امیگریشن حکام کی فائرنگ، گاڑی افسر پر چڑھانے کی کوشش کرنے والا ملزم ہلاک معاہدۂ جنگ بندی خطرے میں: امریکہ کے ایران پر نئے فضائی حملے، مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ جنگ کا خدشہ پاکستان کے لیے عالمی اعزاز: پاکستانی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عائشہ میاں بین الاقوامی تنظیم کی صدر منتخب امریکہ کا ایران پر باقاعدہ فوجی حملہ، متعدد شہر دھماکوں سے گونج اٹھے، عالمی منڈی میں تیل مہنگا حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی اور میزائل نظام کو نشانہ بنایا گیا، امریکی حکام واشنگٹن نے ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی ختم کر کے مفاہمتی یادداشت کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ ایران سعودی عرب نے بھی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا الزام ایران پر عائد کر دیا ائیل ٹینکروں پر حملہ: امریکا نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت انتہائی خطرناک قرار دیدی امریکا مذاکرات کو ناکامی کی طرف لے جائے گا: محسن رضائی امریکا نے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دینے والا لائسنس منسوخ کردیا ایران نے آبنائے ہرمز میں قطری جہاز پر حملے کے الزام کو مسترد کر دیا آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، برطانوی میری ٹائم ایجنسی ایران کے خلاف طاقتور حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، امریکی سینٹرل کمانڈ ایران میں قشم جزیرے، سیریک، بندر عباس میں دھماکے سنے گئے: ایرانی میڈیا ترکیہ سے پابندیاں ہٹانے جارہے ہیں، ہم دوستوں پر پابندیاں نہیں لگاتے: ڈونلڈ ٹرمپ

لاؤس میں دریافت کیا گیا ’ڈیتھ جار‘ کیا ہے؟

Web Desk

25 May 2026

جنوب مشرقی ایشیا کے ملک لاؤس (Laos) میں واقع دنیا کے پراسرار ترین تاریخی مقامات میں سے ایک ”پلین آف جارز“ (Plain of Jars) سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک انتہائی ہولناک اور عجیب و غریب دریافت کی ہے۔ ایک سنسان جنگلی علاقے میں کھدائی کے دوران ایک ایسا بہت بڑا پتھریلا مرتبان ملا ہے، جو قدیم دور کے 37 مختلف انسانوں کی ہڈیوں اور دانتوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔اس سنسنی خیز دریافت نے محققین کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور اس نے اس پراسرار وادی کے صدیوں پرانے رازوں سے پردہ اٹھانے میں مدد فراہم کی ہے، جہاں پتھروں کے بنے ہوئے ہزاروں بڑے برتن صدیوں سے بکھرے پڑے ہیں۔تاریخی پس منظر اور وائکنگ دور سے مماثلتماہرین نے اس مخصوص برتن کو ’ڈیتھ جار‘ (Death Jar) یا علمِ آثارِ قدیمہ کی اصطلاح میں ’جار نمبر 1‘ کا نام دیا ہے۔ اس برتن کے اندر پائے جانے والے انسانی دانتوں پر جب جدید سائنسی تیکنیک ریڈیو کاربن ڈیٹنگ (Radiocarbon Dating) آزمائی گئی تو حیران کن حقائق سامنے آئے:زمانہ: یہ انسانی باقیات تقریباً 890 سے 1160 عیسوی کے درمیانی عہد کی ہیں۔عالمی تناظر: یہ تاریخ انسانی کا وہی دور ہے جب دنیا کے دوسری طرف ”وائکنگز“ (Vikings) اپنے ہولناک حملوں اور فتوحات کی وجہ سے پوری دنیا میں دہشت کی علامت بنے ہوئے تھے۔’ڈیتھ جار‘ کی بناوٹ اور انفرادیتلاؤس میں دریافت ہونے والا یہ پتھریلا برتن اپنی ساخت اور حجم کے لحاظ سے غیر معمولی طور پر بڑا اور منفرد ہے۔ ذیل میں اس کی تیکنیکی خصوصیات کا خاکہ دیا گیا ہے:خصوصیت / پیمائشتفصیلی معلوماتاونچائی اور چوڑائییہ جار تقریباً 1.3 میٹر اونچا اور 2 میٹر چوڑا ہے۔ظاہری ساختاس کی دیواریں انتہائی موٹی ہیں، نچلا حصہ چوڑا ہے اور اس کی مجموعی شکل ایک گہرے پیالے جیسی ہے۔منفرد پہلواس کے اندر سے ملنے والی انسانی باقیات کی غیر معمولی مقدار اسے لاؤس میں اب تک ملنے والے تمام جارز سے بالکل الگ اور منفرد بناتی ہے۔ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی رائےتحقیق کے شریک مصنف اور نامور ماہرِ آثارِ قدیمہ نکلس اسکوپل (Nicholas Skopel) کے مطابق، یہ لاؤس میں اب تک دریافت ہونے والے سب سے بڑے پتھریلے برتنوں میں سے ایک ہے۔صدیوں سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ یہ مرتبان قدیم دور میں تدفین کے نظام یا مردوں کی ہڈیاں محفوظ کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے، اور اس ’ڈیتھ جار‘ سے 37 انسانوں کے ڈھانچے ملنے کے بعد اب اس نظریے کو حتمی سائنسی ثبوت مل گیا ہے کہ یہ علاقہ ایک عظیم الشان تاریخی قبرستان یا تدفین گاہ تھا جہاں مردوں کو ان مرتبانوں کی شکل میں محفوظ کیا جاتا تھا۔