LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
زمینی کارروائی کی تو ایران حملہ آوروں کا قبرستان بن جائے گا: پاسداران انقلاب ترکیہ نے ایران جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات ہی واحد حل قرار دیدیا جنوبی مغربی کنارے کے شہرالخلیل میں فائرنگ، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3زخمی ایران نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی سے دوہرا معیار ختم کرنے کا مطالبہ مظاہرین اپنے مؤقف پر قائم رہیں، احتساب کے مطالبے سے پیچھے نہ ہٹیں: باقر قالیباف امریکی صدر کی ایران کیخلاف ایک اور بڑے آپریشن کی دھمکی آر فور ممالک کا اجلاس، سعودیہ کیساتھ اظہار یکجہتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ این سی سی آئی اے کے نوٹس پر جاوید ہاشمی کا ردعمل: اپنے لفظوں پر قائم ہوں، گرفتاری سے نہیں ڈرتا وزیراعلیٰ بلوچستان نے چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر قرار دیدیا ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید کا یونان کا سرکاری دورہ مکمل امارات میں پاکستانیوں کیلئے ای پاسپورٹ کا اجرا، کم از کم فیس 145 درہم مقرر اسحاق ڈار سمیت آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ کی ترک صدر اردوان سے ملاقات روس اور یوکرین کے درمیان 540 جنگی قیدیوں کا تبادلہ، 270 روسی فوجی ماسکو پہنچ گئے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آئین اور قانون کے مطابق لگائی گئی: گورنر سندھ ماسکو میں ڈرون حملوں کا خطرہ، فضائی آپریشن کئی بار متاثر ہونے کے بعد دوبارہ بحال

امریکا کا ایرانی ڈرون نیٹ ورک سے متعلق معلومات پر 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان

Web Desk

31 July 2026

امریکا نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے مالیاتی اور سپلائی نیٹ ورک کو نقصان پہنچانے والی معلومات فراہم کرنے پر 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ‘ریوارڈز فار جسٹس’ پروگرام کے تحت یہ انعام بالخصوص ‘کیمیا پارٹ سیوان’ (KIPAS) نامی کمپنی کے مالیاتی ڈھانچے اور سپلائی چین کو بے نقاب کرنے والے شواہد پر دیا جائے گا۔ واشنگٹن کا الزام ہے کہ یہ کمپنی قدس فورس کے لیے ڈرونز کی تیاری، ان کی آزمائش اور تکنیکی پرزہ جات کی خریداری میں مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ اس سلسے میں کمپنی کے 6 اعلیٰ عہدیداروں کے نام بھی جاری کیے گئے ہیں جن پر عراق، یمن اور شام میں ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کو ڈرون ٹیکنالوجی کی فراہمی کا الزام ہے۔ امریکی حکام نے وضاحت کی ہے کہ اس اقدام کا مقصد براہِ راست گرفتاریاں نہیں بلکہ پاسدارانِ انقلاب کی مالی قوت کو مفلوج کرنا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران نے ماضی کی طرح ان تمام امریکی الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا ہے۔