LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت پمز ہسپتال میں زیادہ بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں: طارق فضل چودھری

ایرانی ویمنز فٹبال ٹیم کی کپتان بھی آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست سے دستبردار

Web Desk

16 March 2026

آسٹریلیا میں مقیم ایرانی ویمنز فٹبال ٹیم کی کپتان زہرا قنبری نے سیاسی پناہ کی درخواست واپس لیتے ہوئے وطن واپسی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، زہرا قنبری جلد آسٹریلیا سے ملائیشیا روانہ ہوں گی، جہاں سے وہ ایران واپس پہنچیں گی۔ ان سے قبل ٹیم کی تین دیگر کھلاڑی اور ایک اسٹاف ممبر بھی پناہ کی پیشکش سے دستبردار ہو کر واپسی کا ارادہ ظاہر کر چکے ہیں۔ اے ایف سی ایونٹ کے اختتام پر ٹیم کے 6 اراکین آسٹریلیا میں رک گئے تھے جنہیں آسٹریلوی وزیر داخلہ ٹونی برک نے قومی ترانہ نہ گانے پر ممکنہ سزا کے خدشے کے پیش نظر پناہ کی پیشکش کی تھی۔

ٹیم کے 26 رکنی اسکواڈ میں سے صرف 6 کھلاڑیوں اور ایک معاون رکن نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ قبول کی تھی، جبکہ باقی ٹیم 9 مارچ کو روانہ ہو گئی تھی۔ اب کپتان سمیت پانچ اراکین کے فیصلے کی تبدیلی کے بعد صرف ایک کھلاڑی آسٹریلیا میں مقیم رہ گئی ہے۔ یاد رہے کہ یہ کھلاڑی کوالالمپور میں موجود اپنی باقی ٹیم کے ساتھ شامل ہو کر تہران واپس روانہ ہوں گے۔