پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت
Web Desk
26 August 2026
اسلام آباد: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے تصدیق کی ہے کہ پمز ہسپتال (PIMS) کے بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ (NICU) میں آگ اے سی شارٹ سرکٹ/بلاسٹ کے باعث لگی، جو وارڈ میں آکسیجن سلنڈرز اور لائنوں کی موجودگی کے باعث تیزی سے پھیل گئی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے 14 نومولود بچوں کی شہادت کی تصدیق کی اور اس واقعے کو انتہائی دلخراش سانحہ قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور اگر کسی کی لاپرواہی سامنے آئی تو سخت ترین کارروائی ہوگی، چاہے اس میں ان کی اپنی ہی غلطی کیوں نہ ہو۔
سیکرٹری ہیلتھ محمد اسلم غوری کے مطابق آتشزدگی کے وقت نرسری میں 15 بچے موجود تھے اور ڈیوٹی پر 4 اہلکار تعینات تھے۔ بدقسمتی سے صرف ایک بچے کو ہی بچایا جا سکا جبکہ 14 بچے جھلس کر اور دم گھٹنے سے جاں بحق ہو گئے۔
وفاقی وزیرِ صحت نے بتایا کہ آگ لگتے ہی ہسپتال کی بجلی منقطع ہو گئی تھی، جس کے بعد عملے نے فوری طور پر ریسکیو ٹیموں کو بلایا، تاہم آکسیجن کی فراہمی کی وجہ سے آگ انتہائی شدت اختیار کر چکی تھی۔ ڈی جی ہیلتھ اور سیکرٹری ہسپتال میں موجود ہیں اور انتظامیہ متاثرہ والدین کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے۔
متعلقہ عنوانات
حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق
28 October 2026
سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
28 October 2026
سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری
28 October 2026
برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار
28 October 2026
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع
28 October 2026
روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی
28 October 2026
مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی
28 October 2026
حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ
28 October 2026