LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ

پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت

Web Desk

26 August 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے تصدیق کی ہے کہ پمز ہسپتال (PIMS) کے بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ (NICU) میں آگ اے سی شارٹ سرکٹ/بلاسٹ کے باعث لگی، جو وارڈ میں آکسیجن سلنڈرز اور لائنوں کی موجودگی کے باعث تیزی سے پھیل گئی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے 14 نومولود بچوں کی شہادت کی تصدیق کی اور اس واقعے کو انتہائی دلخراش سانحہ قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور اگر کسی کی لاپرواہی سامنے آئی تو سخت ترین کارروائی ہوگی، چاہے اس میں ان کی اپنی ہی غلطی کیوں نہ ہو۔

سیکرٹری ہیلتھ محمد اسلم غوری کے مطابق آتشزدگی کے وقت نرسری میں 15 بچے موجود تھے اور ڈیوٹی پر 4 اہلکار تعینات تھے۔ بدقسمتی سے صرف ایک بچے کو ہی بچایا جا سکا جبکہ 14 بچے جھلس کر اور دم گھٹنے سے جاں بحق ہو گئے۔

وفاقی وزیرِ صحت نے بتایا کہ آگ لگتے ہی ہسپتال کی بجلی منقطع ہو گئی تھی، جس کے بعد عملے نے فوری طور پر ریسکیو ٹیموں کو بلایا، تاہم آکسیجن کی فراہمی کی وجہ سے آگ انتہائی شدت اختیار کر چکی تھی۔ ڈی جی ہیلتھ اور سیکرٹری ہسپتال میں موجود ہیں اور انتظامیہ متاثرہ والدین کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے۔