LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت پمز ہسپتال میں زیادہ بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں: طارق فضل چودھری سعودی کابینہ کا آبی گزرگاہوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور سیرتِ محمدیؐ کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہو گا، مریم نواز وزیراعظم کا پمز ہسپتال آتشزدگی کا نوٹس، واقعہ کی فوری تحقیقات کا حکم ملک بھر میں عید میلاد النبیﷺ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے پنجاب اور شن جیانگ میں زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی، 14 نومولود جاں بحق خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پوری انسانیت کیلیے رحمت بن کر تشریف لائے، محسن نقوی حضور نبی اکرم ﷺ کی آمد انسانیت کیلئے ہدایت کا ذریعہ ہے، گورنر پنجاب

پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال

Web Desk

26 August 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے پمز ہسپتال (PIMS) پہنچ کر آتشزدگی کے دلخراش واقعے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا اور جاں بحق بچوں کے لواحقین سے ملاقات کر کے تعزیت کا اظہار کیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے تصدیق کی کہ واقعے میں 14 بچے شہید ہوئے ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی اپنی بھی غلطی ثابت ہوئی تو رعایت نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حادثہ صبح 6 بج کر 38 منٹ پر پیش آیا، جہاں ابتدائی شواہد کے مطابق اے سی سے شعلہ نکلا اور آگ وارڈ میں موجود آکسیجن لائنوں کی وجہ سے تیزی سے پھیل گئی۔

استعفے سے متعلق سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم ان کے باس ہیں اور کسی کو عہدے سے ہٹانے یا معطل کرنے کا تمام تر اختیار وزیراعظم شہباز شریف کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ 2 سے 3 دن کے اندر سامنے آ جائے گی جسے عوام اور میڈیا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر کی میڈیا ٹاک کے دوران جاں بحق بچوں کے شدید غم و غصے میں مبتلا لواحقین نے ہسپتال انتظامیہ اور حکومت کے خلاف زبردست احتجاج اور نعرے بازی کی اور واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔