پانی میں موجود نمک خاموشی سے کروڑوں افراد کو ہائی بلڈ پریشر کا مریض بنانے لگا
Web Desk
28 January 2026
ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پینے کے پانی میں موجود سوڈیم یا نمک ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔ فلوریڈا سٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق پینے کے پانی میں زیادہ مقدار میں نمک اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان تعلق موجود ہے، خاص طور پر وہ افراد جو ساحلی علاقوں میں رہتے ہیں۔
محققین نے بتایا کہ مقصد لوگوں کو خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ ایک ماحولیاتی عنصر کی نشاندہی کرنا ہے جو متعدد افراد میں ہائی بلڈ پریشر کی وجہ بن رہا ہے۔ امریکہ میں بیشتر افراد اپنے جسم میں پہلے ہی ضرورت سے زیادہ مقدار میں نمک لیتے ہیں، اور پانی میں موجود اضافی سوڈیم اس مقدار کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
اس تحقیق میں امریکہ، بنگلادیش، ویتنام، کینیا، آسٹریلیا اور دیگر یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے 74 ہزار افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج کے مطابق جو افراد زیادہ نمک والے پانی کا استعمال کرتے ہیں، ان کا بلڈ پریشر دیگر افراد کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق نمکین یا کھارے پانی کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ 26 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، اور یہ تعلق ساحلی علاقوں میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ خطرہ زیادہ محسوس نہیں ہوتا، لیکن معمولی بلڈ پریشر میں اضافہ بھی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
دنیا بھر میں تین ارب سے زائد افراد ساحلی علاقوں یا ان کے قریب رہتے ہیں، جہاں زیر زمین پانی پینے کا بنیادی ذریعہ ہے، اور ایسے اکثر پانی میں نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
متعلقہ عنوانات
دوا فروخت کرنے کیلئے ڈاکٹر بھی لائسنس کا پابند ہے، وفاقی آئینی عدالت
3 October 2026
پاکستان میں 3 کروڑ 20 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی نگہداشت کی ضرورت : ڈاکٹر مختار برتھ
2 October 2026
لوئر دیر میں پُراسرار بیماری سے 7 افراد جاں بحق، درجنوں بچے زیر علاج
1 October 2026
پاکستان میں نیشنل مینٹل ہیلتھ پالیسی 2026-2035 کا اجرا
1 October 2026
وقت آگیا کہ دنیا جان لے’پنک سالٹ‘ کس کا خزانہ ہے: مریم نواز
1 October 2026
لانگ مارچ سے کبھی کوئی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، مصطفی کمال
1 October 2026
کراچی میں غیر رجسٹرڈ اور مشتبہ جعلی ادویات کیخلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن
30 September 2026
پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 کا آغاز کل اسلام آباد میں ہوگا، وزارتِ صحت نے تفصیلات جاری کر دیں
30 September 2026