LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کرتے، تین سال قید کاٹ لی، بیرسٹر گوہر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دورے پر تہران پہنچ گئے پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی عائد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران پر نئی پابندیوں سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں 21 سابق کرکٹ کپتانوں کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کیلئے طبی سہولیات کا مطالبہ خلا سے زمین کا سحر انگیز منظر، خلاباز نے رقص کرتی سبز روشنیاں شیئر کردیں ایران کے خلاف فیصلہ کن اقتصادی کارروائی آج شروع کی جائے گی: امریکی وزیرِ خزانہ آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام؛ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی کی طلبہ کیساتھ نشست محمود اچکزئی دہشت گردوں کا نام نہ لے کر غلط بیانی کر رہے ہیں: وزیر داخلہ بلوچستان پنجاب میں موسمِ گرما کی تعطیلات ختم، تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے ایران جنگ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثابت ہوئی، برطانوی اخبار پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی کا ایرانی ضوابط توڑنے والے بحری جہازوں کو انتباہ گنی میں لینڈ فل سائٹ پر مٹی کا تودہ گرنے سے 30 افراد ہلاک جنگ کے دوران انتخابات سے یوکرین تباہ، عوام تقسیم ہو جائے گی: زیلنسکی

پانی میں موجود نمک خاموشی سے کروڑوں افراد کو ہائی بلڈ پریشر کا مریض بنانے لگا

Web Desk

28 January 2026

ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پینے کے پانی میں موجود سوڈیم یا نمک ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔ فلوریڈا سٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق پینے کے پانی میں زیادہ مقدار میں نمک اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان تعلق موجود ہے، خاص طور پر وہ افراد جو ساحلی علاقوں میں رہتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ مقصد لوگوں کو خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ ایک ماحولیاتی عنصر کی نشاندہی کرنا ہے جو متعدد افراد میں ہائی بلڈ پریشر کی وجہ بن رہا ہے۔ امریکہ میں بیشتر افراد اپنے جسم میں پہلے ہی ضرورت سے زیادہ مقدار میں نمک لیتے ہیں، اور پانی میں موجود اضافی سوڈیم اس مقدار کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

اس تحقیق میں امریکہ، بنگلادیش، ویتنام، کینیا، آسٹریلیا اور دیگر یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے 74 ہزار افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج کے مطابق جو افراد زیادہ نمک والے پانی کا استعمال کرتے ہیں، ان کا بلڈ پریشر دیگر افراد کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق نمکین یا کھارے پانی کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ 26 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، اور یہ تعلق ساحلی علاقوں میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ خطرہ زیادہ محسوس نہیں ہوتا، لیکن معمولی بلڈ پریشر میں اضافہ بھی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

دنیا بھر میں تین ارب سے زائد افراد ساحلی علاقوں یا ان کے قریب رہتے ہیں، جہاں زیر زمین پانی پینے کا بنیادی ذریعہ ہے، اور ایسے اکثر پانی میں نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔