LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اہم سمریوں کی منظوری دے دی نیویارک سے 36 نایاب اور چوری شدہ پاکستانی نوادرات کی واپسی، امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی ملائیشیا کا اسرائیلی فوج کیلئے امداد کو اپنے ملک سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان اقوام متحدہ کا معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دینے کا مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ کا اسرائیل کو تباہی کیلئے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم فروخت کرنے کا منصوبہ صومالی صدر کی رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات، انسانی خدمات پر تبادلہ خیال جاپانی وزیراعظم کا حکمراں جماعت اور کابینہ میں ردوبدل کا اعلان روسی حملے روکنے پر یوکرین کا بھی بعض اہداف پر حملے روکنے کا اعلان پاکستان کا حوثی حملوں کے خلاف سعودی دفاعی اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان آئندہ چند ماہ میں ایران جنگ بالکل مختلف مرحلے میں داخل ہو جائے گی، جے ڈی وینس لیتھوانیا کی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ڈرون تباہ کر دیا گیا جرمنی میں طیارہ حادثے کا شکار، 3 ڈچ شہری ہلاک کولمبیا میں 5.2 شدت کا زلزلہ امریکی ایوان نمائندگان میں روس پر پابندیاں سخت کرنے کا بل منظور

بلدیاتی نظام کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، فنڈز محلے تک پہنچائے جائیں؛ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال

Web Desk

7 July 2026

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے پمز (PIMS) ہسپتال میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی اور پرائمری ہیلتھ سسٹم کی کمزوری کو صحت کے مسائل کی اصل وجہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پمز ہسپتال 1984 میں صرف 7 لاکھ کی آبادی کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن آج اسلام آباد کی آبادی 50 لاکھ ہو چکی ہے اور روزانہ 7 سے 9 ہزار مریض یہاں آ رہے ہیں، جس سے ہسپتال پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ 28 بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) کا غیر فعال ہونا ہماری کوتاہی ہے، تاہم اب پمز میں ‘فیرا پلس’ مشین فعال کر دی گئی ہے جس کے تحت دل کے مریضوں کا مفت علاج ہو گا۔ وفاقی وزیر نے آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیملی پلاننگ پر زور دیا اور کہا کہ صرف ہسپتال بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے 18ویں ترمیم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاق سے 8,848 ارب روپے کے فنڈز لے کر چاروں وزرائے اعلیٰ کو تو دے دیے گئے لیکن نیچے محلے کی سطح پر فنڈز منتقل کرنے کا کوئی نظام نہیں، جس کے باعث عوام صاف پانی اور بنیادی صحت جیسی سہولیات سے محروم ہیں۔