LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عوام حکمرانوں کی عیاشیوں کا بوجھ اٹھا رہے، ملک میں دہرا نظام نہیں چل سکتا: حافظ نعیم وزیراعظم سے سعودی کاروباری وفد کی ملاقات، سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال امریکی صدر کا آبنائے ہرمز سے تمام سمندری بارودی سرنگیں ہٹانے کا دعویٰ شہباز شریف 31 اگست کو کرغزستان کے تین روزہ دورے پر روانہ ہوں گے آزاد کشمیراسمبلی: طارق فاروق سپیکر، احمد رضا قادری ڈپٹی سپیکر منتخب، حلف اٹھا لیا محسن نقوی سے امریکی سفیر کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو بانی پی ٹی آئی کی رہائی عدالتوں کے ذریعے ہی ہوگی، ججز کے فیصلوں سے امید پیدا ہوئی: علیمہ خان فیلڈ مارشل کا دورہ کامیاب، نتائج جلد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے: ایرانی صدارتی دفتر حکومت نے خلوص نیت سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا: رانا ثناء اللہ 27 اگست سے مون سون بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، پی ٹی آئی کی توہین عدالت کی درخواست پر اعتراضات دور عمران خان کا علاج: جمائما کی جانب سے برطانوی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے مداخلت کی درخواست غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں راضی نامہ بھی ملزم کو ضمانت کا حق نہیں دیتا: عدالت امریکا کا H-1B ویزا کیپ پٹیشنز پر ایک لاکھ ڈالر سے زائد فیس عائد کرنے کی تجویز کا اعلان عائشہ وہاب نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست جیت لی، کانگریس کا حصہ بننے والی پہلی افغان امریکی خاتون

وفاق کی جانب سے ایف سی ایریا میں ڈیجیٹلائزڈ فیڈرل ڈسپنسری کا افتتاح

Web Desk

31 January 2026

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کے بعد پانچ روز تک لاشوں کی باقیات کے ڈی این اے ٹیسٹ نہیں ہو سکے، جس کے باعث وفاقی حکومت کو مداخلت کرنا پڑی۔ انہوں نے ہر صوبے میں ڈی این اے لیبارٹری کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایف سی ایریا میں ڈیجیٹلائزڈ فیڈرل ڈسپنسری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ ہیلتھ کیئر ڈیجیٹلائزیشن پروگرام کے تحت وفاقی بنیادی مراکز صحت کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ایف سی ایریا میں کراچی کی تیسری ڈیجیٹلائزڈ وفاقی ڈسپنسری کا افتتاح کیا گیا۔

یہ ڈسپنسری صحت کہانی اور وفاقی وزارت صحت کے اشتراک سے قائم کی گئی ہے، جو پاکستان میں صحت کہانی کے تحت چھٹی ڈسپنسری ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صحت کہانی کی سی ای او سارہ سید خرم نے کہا کہ صحت کہانی ایک ٹیلی میڈیسن ادارہ ہے جسے وفاقی وزیر صحت کے تعاون سے اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس سے قبل کراچی ایئرپورٹ اور جیکب لائنز میں بھی ڈسپنسریز کو جدید سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں، جہاں مریضوں کو معائنے کے ساتھ مفت ادویات دی جا رہی ہیں۔

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ خوشی کا دن ہے کہ وفاقی وزارت صحت کے ماتحت پرانی ڈسپنسری کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں دس ڈیجیٹلائزڈ ڈسپنسریز تیار کی جا رہی ہیں، جن میں چھ اسلام آباد اور چار کراچی میں قائم کی جائیں گی۔

انہوں نے نِپاہ وائرس کے حوالے سے بتایا کہ این آئی ایچ نے چار روز قبل الرٹ جاری کیا ہے اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں، تاہم الحمدللہ پاکستان تاحال نِپاہ وائرس سے محفوظ ہے۔

وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ اگرچہ بڑے حادثات، ٹرانسپلانٹس اور پیچیدہ آپریشنز بڑے اسپتالوں میں ہوتے ہیں، لیکن 70 سے 80 فیصد صحت کی ضروریات بنیادی اور سیکنڈری مراکز کے ذریعے پوری کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ آئندہ سانحات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ حادثات کی فائنڈنگز کی روشنی میں عملی اقدامات کیے جائیں، نہ کہ ایک حادثے کے بعد دوسرے سانحے کا انتظار کیا جائے۔