LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران اور امریکا 60 روزہ عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے: امریکی نشریاتی ادارے کا دعویٰ تین شہروں میں غیر ملکی صحافیوں کو آؤٹ ڈور کوریج کے لیے این او سی لازمی قرار امریکی محکمہ دادگستری کی تاریخ کی سب سے بڑی مہم, 10افراد کی شہریت منسوخ کرنے کا اقدام ایرانی دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز کا جنوبی بحری راستہ بدستور کھلا ہے، سینٹ کام صدر ٹرمپ کی فنڈ ریزنگ تقریب سے چند گھنٹے قبل گالف کلب سے مسلح شخص گرفتار روس نے کیف کے متعدد علاقوں پر بیلسٹک میزائل داغ دیئے، ہنگامی صورتحال پیدا امریکا ایران جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں ثالثی سے نمایاں پیشرفت ہوئی: قطر جنوبی کوریا میں شدید گرمی کی لہر، 16 افراد جان کی بازی ہار گئے ایتھوپیا کے شمالی علاقے امہارا میں شدید بارشیں، لینڈ سلائیڈنگ، 14 افراد ہلاک بھارت کے 5 اگست کے اقدامات عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں: عطا تارڑ یمن کے قریب بحیرۂ احمر میں بھارتی کارگو جہاز پروجیکٹائل حملے کے بعد ڈوب گیا سانحہ گل پلازہ: تفتیشی افسر کو تحقیقات مکمل کرنے کیلئے 9 اگست تک مہلت مل گئی ٹرمپ کا امیرِ قطر سے ٹیلیفونک رابطہ، خلیج میں استحکام کیلئے مذاکرات کی اہمیت پر زور ’’یوم استحصال کشمیر‘‘جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے: شرجیل میمن بلاول بھٹو دل بڑا کریں، لیڈر شکست پر روتے اچھے نہیں لگتے: طلال چودھری

وفاق کی جانب سے ایف سی ایریا میں ڈیجیٹلائزڈ فیڈرل ڈسپنسری کا افتتاح

Web Desk

31 January 2026

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کے بعد پانچ روز تک لاشوں کی باقیات کے ڈی این اے ٹیسٹ نہیں ہو سکے، جس کے باعث وفاقی حکومت کو مداخلت کرنا پڑی۔ انہوں نے ہر صوبے میں ڈی این اے لیبارٹری کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایف سی ایریا میں ڈیجیٹلائزڈ فیڈرل ڈسپنسری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ ہیلتھ کیئر ڈیجیٹلائزیشن پروگرام کے تحت وفاقی بنیادی مراکز صحت کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ایف سی ایریا میں کراچی کی تیسری ڈیجیٹلائزڈ وفاقی ڈسپنسری کا افتتاح کیا گیا۔

یہ ڈسپنسری صحت کہانی اور وفاقی وزارت صحت کے اشتراک سے قائم کی گئی ہے، جو پاکستان میں صحت کہانی کے تحت چھٹی ڈسپنسری ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صحت کہانی کی سی ای او سارہ سید خرم نے کہا کہ صحت کہانی ایک ٹیلی میڈیسن ادارہ ہے جسے وفاقی وزیر صحت کے تعاون سے اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس سے قبل کراچی ایئرپورٹ اور جیکب لائنز میں بھی ڈسپنسریز کو جدید سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں، جہاں مریضوں کو معائنے کے ساتھ مفت ادویات دی جا رہی ہیں۔

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ خوشی کا دن ہے کہ وفاقی وزارت صحت کے ماتحت پرانی ڈسپنسری کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں دس ڈیجیٹلائزڈ ڈسپنسریز تیار کی جا رہی ہیں، جن میں چھ اسلام آباد اور چار کراچی میں قائم کی جائیں گی۔

انہوں نے نِپاہ وائرس کے حوالے سے بتایا کہ این آئی ایچ نے چار روز قبل الرٹ جاری کیا ہے اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں، تاہم الحمدللہ پاکستان تاحال نِپاہ وائرس سے محفوظ ہے۔

وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ اگرچہ بڑے حادثات، ٹرانسپلانٹس اور پیچیدہ آپریشنز بڑے اسپتالوں میں ہوتے ہیں، لیکن 70 سے 80 فیصد صحت کی ضروریات بنیادی اور سیکنڈری مراکز کے ذریعے پوری کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ آئندہ سانحات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ حادثات کی فائنڈنگز کی روشنی میں عملی اقدامات کیے جائیں، نہ کہ ایک حادثے کے بعد دوسرے سانحے کا انتظار کیا جائے۔