LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یمن نے صنعاء ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ملک کے تمام ہوائی اڈے بند کردیئے ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان، کارگو پر 20 فیصد فیس کا دعویٰ ایران، امریکا کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا ایران کا ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول سنبھالنے کے بیان پر ردعمل اسحاق ڈار سے اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کی امیدوار کی ملاقات موسلادھار بارشوں کا خدشہ، بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری تربیلا ڈیم سے اضافی پانی چھوڑنے کا امکان، پی ڈی ایم اے کا الرٹ برطانیہ نےایرانی پاسداران انقلاب فورس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا امریکا جلد آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال کر دنیا سے معاوضہ وصول کریگا: ٹرمپ بحرین کا ایران پر شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام، متعدد میزائل اور ڈرون تباہ ووٹرز لسٹوں سے مسلمانوں کے نام حذف: یواین نمائندوں کی بھارتی حکومت سے وضاحت طلب یورپی ممالک کا روس پر سائبر حملوں کا الزام، نئی پابندیاں عائد کردیں خواتین ترقی کی شراکت دار نہیں قیادت کا کردار ادا کریں: مریم نواز ایران امریکا تنازع ختم کرنے کی صلاحیت صرف پاکستان کے پاس ہے: صدر آذربائیجان شہباز شریف اور نوازشریف کی امیر قطر سے ملاقات، سابق امیر قطر کے انتقال پر تعزیت

سوشل میڈیا کے منفی اثرات: مختلف ممالک میں کم عمر بچوں کے استعمال پر پابندیاں

Web Desk

13 July 2026

کم عمر بچوں کی اخلاقی تربیت، ذہنی اور جسمانی صحت پر سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات کے پیشِ نظر دنیا بھر میں آن لائن پلیٹ فارمز کے حوالے سے قوانین کو سخت کرنے کا رجحان تیز ہو گیا ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، آسٹریلیا اور انڈونیشیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جب کہ آسٹریلیا میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والے پلیٹ فارمز کو 49.5 ملین ڈالر تک کے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح، ترکیہ نے 15 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگاتے ہوئے سخت تصدیقِ عمر کو لازمی قرار دیا ہے، جب کہ برازیل نے 16 سال سے کم عمر نوجوانوں کے اکاؤنٹس کو قانونی سرپرستوں سے منسلک کرنا لازمی کر دیا ہے۔ چین نے بھی ‘مائنر موڈ’ پروگرام کے تحت ڈیوائس اور ایپس کی سطح پر مخصوص پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ماہرین نے ان عالمی اقدامات کو بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ پاکستان میں بھی بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے عالمی طرز پر فوری قانون سازی کی جائے۔