LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آن لائن فراڈ کیس: 284 غیر ملکیوں کی حراست کیلئے نجی پلازہ دوبارہ سب جیل قرار حکومت اور اپوزیشن میں معقول دوریاں ہونی چاہئیں، مخالفت برائے مخالفت نہیں: مولانا فضل الرحمان وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کے پاکستان آفس کا افتتاح کر دیا سپریم کورٹ کا بانی کے علاج سے متعلق تحریری فیصلہ جاری، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، ایران کا شدید ردعمل پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، کاروبار کا منفی رجحان رہا پاکستان اور روس کے درمیان کلیدی شعبوں میں تعاون اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق سپریم کورٹ کا فیصلہ شاندار اور تاریخی، سیاسی بے چینی ختم ہوگی: شیخ رشید عدالتی حکم پر مکمل عمل، بانی کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے: پی ٹی آئی اسرائیل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ کر رہا ہے: عباس عراقچی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم نے 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، عطا تارڑ پیٹرول مزید مہنگا ہونے پر جماعت اسلامی کی کل ملک گیر ہڑتال کی دھمکی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیاں مکمل، ریکارڈ الیکشن کمیشن کو ارسال سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم وزیراعظم کی عازمینِ حج کو بہترین سہولیات کی فراہمی، مؤثر انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت

سوشل میڈیا کے منفی اثرات: مختلف ممالک میں کم عمر بچوں کے استعمال پر پابندیاں

Web Desk

13 July 2026

کم عمر بچوں کی اخلاقی تربیت، ذہنی اور جسمانی صحت پر سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات کے پیشِ نظر دنیا بھر میں آن لائن پلیٹ فارمز کے حوالے سے قوانین کو سخت کرنے کا رجحان تیز ہو گیا ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، آسٹریلیا اور انڈونیشیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جب کہ آسٹریلیا میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والے پلیٹ فارمز کو 49.5 ملین ڈالر تک کے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح، ترکیہ نے 15 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگاتے ہوئے سخت تصدیقِ عمر کو لازمی قرار دیا ہے، جب کہ برازیل نے 16 سال سے کم عمر نوجوانوں کے اکاؤنٹس کو قانونی سرپرستوں سے منسلک کرنا لازمی کر دیا ہے۔ چین نے بھی ‘مائنر موڈ’ پروگرام کے تحت ڈیوائس اور ایپس کی سطح پر مخصوص پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ماہرین نے ان عالمی اقدامات کو بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ پاکستان میں بھی بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے عالمی طرز پر فوری قانون سازی کی جائے۔