LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 21 افراد ہلاک کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں

سوشل میڈیا کے منفی اثرات: مختلف ممالک میں کم عمر بچوں کے استعمال پر پابندیاں

Web Desk

13 July 2026

کم عمر بچوں کی اخلاقی تربیت، ذہنی اور جسمانی صحت پر سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات کے پیشِ نظر دنیا بھر میں آن لائن پلیٹ فارمز کے حوالے سے قوانین کو سخت کرنے کا رجحان تیز ہو گیا ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، آسٹریلیا اور انڈونیشیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جب کہ آسٹریلیا میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والے پلیٹ فارمز کو 49.5 ملین ڈالر تک کے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح، ترکیہ نے 15 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگاتے ہوئے سخت تصدیقِ عمر کو لازمی قرار دیا ہے، جب کہ برازیل نے 16 سال سے کم عمر نوجوانوں کے اکاؤنٹس کو قانونی سرپرستوں سے منسلک کرنا لازمی کر دیا ہے۔ چین نے بھی ‘مائنر موڈ’ پروگرام کے تحت ڈیوائس اور ایپس کی سطح پر مخصوص پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ماہرین نے ان عالمی اقدامات کو بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ پاکستان میں بھی بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے عالمی طرز پر فوری قانون سازی کی جائے۔