LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حماس کا امریکا سے اسرائیل پر غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کیلئے دباؤ ڈالنے کا مطالب ایم کیو ایم کا نئے صوبوں کیلئے ریفرنڈم کرانے کا عندیہ ایران کسی بھی قیمت میں ابنائے ہرمز سے پیچھے نہیں ہٹے گا: آیت اللہ آملی لاریجانی صدر مملکت آصف علی زرداری کا دو روزہ دورہ لاہور مکمل، اسلام آباد روانہ ٹرمپ کا ایران پر نئی فوجی کارروائی کے بجائے اقتصادی دباؤ بڑھنے کا اعلان ٹانک میں پیر کو کرفیو نافذ، ضلعی انتظامیہ نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب، وزیراعظم شہباز شریف صدارت کریں گے نئے صوبوں کے لیے اٹھنے والی ہر تحریک کا حصہ بنیں گے: مصطفیٰ کمال شرجیل میمن کا سوشل میڈیا پر مبینہ کردار کشی کے خلاف این سی سی آئی اے سے رجوع سمندری طوفان ڈولفن نے جاپان اور چین میں تباہی مچا دی، سیکڑوں پروازیں منسوخ اسحاق ڈار کا کینیڈین وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال آزاد کشمیر انتخابات کے دوران پبلک سروس کمیشن میں 7 نئے ارکان کی تقرری، اپوزیشن کا اعتراض پاکستان نے افغانستان میں ہتھیاروں کی مبینہ اسمگلنگ کا طالبان کا دعویٰ مسترد کردیا نیتن یاہو نے غزہ سے متعلق ٹرمپ کے 15 نکاتی امن منصوبے کو مسترد کردیا وزیراعظم کا بلوچستان سے پیش کیے گئے حب الوطنی نغمے پر فنکاروں کو خراجِ تحیسن

بغیر فریج کے محفوظ رہنے والی پہلی ویکسین کے انسانی تجربات کامیاب

Web Desk

8 August 2026

سائنس دانوں نے ایک ایسی انقلابی اور نئی ویکسین کے پہلے مرحلے (فیز ون) کے کلینیکل ٹرائل میں کامیابی حاصل کر لی ہے جو فریج یا کولڈ سٹوریج کے بغیر بھی محفوظ رہ سکتی ہے۔ یہ پیش رفت دنیا بھر بالخصوص دور دراز اور گرم علاقوں میں ویکسین کی ترسیل کو انتہائی آسان اور موثر بنا سکتی ہے۔

طبی رپورٹ کے مطابق SPVX-02 نامی یہ ٹیٹنس اور ڈفتھیریا بوسٹر ویکسین StablevaX ٹیکنالوجی کے تحت تیار کی گئی ہے۔ تجربات سے ثابت ہوا کہ یہ ویکسین 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک کے درجہ حرارت میں کم از کم 24 ماہ (2 سال) تک اپنی افادیت برقرار رکھ سکتی ہے۔ پہلے مرحلے کی آزمائش میں صحت مند بالغ افراد میں اس کا مدافعتی ردِعمل (Immune Response) موجودہ منظور شدہ ویکسینز کے بالکل برابر پایا گیا، جبکہ کوئی سنگین مضر اثرات (Side Effects) بھی سامنے نہیں آئے۔

موجودہ وقت میں زیادہ تر ویکسینز کی ترسیل اور ذخیرے کے لیے کولڈ چین (Cold Chain) یعنی مسلسل ٹھنڈا درجہ حرارت برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں بجلی کی عدم فراہمی، کمزور انفراسٹرکچر اور دشوار گزار جغرافیائی حالات کے باعث کروڑوں روپے کی ویکسین ضائع ہو جاتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اگلے مراحل میں بھی یہ ٹیکنالوجی کامیاب رہی تو یہ دنیا کے پس ماندہ علاقوں تک طبی سہولیات کی رسائی میں ایک نیا انقلاب برپا کر دے گی۔