LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آڈیو لیک کا معاملہ؛ شوکت نواز میر اور مہران ارشد کے خلاف بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں پر مقدمات قائم، کالعدم جے اے اے سی (JAAC) کے 4 مطلوب ارکان کے لیے ایک کروڑ روپے انعام مقرر؛ کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں: حافظ نعیم الرحمان سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس طلب، وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کئے جانے کا امکان وزیراعظم کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت فلپائن: تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 41 ہو گئی، ہزاروں افراد بے گھر امریکی صدر کی سنجیدگی نظر آئی تو مذاکرات پر اعتراض نہیں: ابراہیم عزیزی پنجاب حکومت کا پاسکو سے ایک ملین میٹرک ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے لبنانی آرمی چیف کی ملاقات، عسکری تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق ٹرمپ کی ایک لاکھ ڈالر H-1B ویزا فیس غیر قانونی ہے، امریکی جج کا فیصلہ اسرائیل کے جنوبی لبنان میں حملے، مزید 5 افراد شہید، کئی زخمی پاکستان نے افغانستان سے دہشتگردوں کے حملے عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیدیئے ایران کے خلاف کشیدگی بڑھائی تو اسرائیل خود کو تنہا پائے گا: ٹرمپ کا نیتن یاہو کو پیغام گلگت بلتستان انتخابات: پیپلز پارٹی 10، آزاد امیدوار 7 اور ن لیگ 4 نشستوں پر کامیاب

امریکا میں شہریوں کے لیے منفرد پروگرام: ٹریفک جرمانوں کے بدلے خوراک عطیہ کرنے کی سہولت

Web Desk

17 November 2025

امریکی ریاست اوکلاہوما کے شہر چکاشا میں بلدیہ اور پبلک لائبریری نے شہریوں کے لیے ایک منفرد اور فلاحی پروگرام متعارف کر دیا ہے، جس کے تحت ٹریفک خلاف ورزیوں اور لائبریری کی زائد المیعاد فیس میں کمی یا خاتمے کے بدلے کھانے پینے کی اشیاء عطیہ کی جا سکیں گی۔

ذرائع کے مطابق نومبر کے باقی ایام اور پورے دسمبر میں شہری خراب نہ ہونے والی خوراک جمع کروا کر ٹریفک چالان، میونسپل خلاف ورزیاں اور لائبریری فیس میں رعایت حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔

بلدیہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ “فوڈ فار فائن” پروگرام نہ صرف کمیونٹی کی مدد کا ذریعہ ہے بلکہ شہریوں کو جرمانوں میں قابلِ ذکر کمی کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔

بلدیہ کی عدالت کے مطابق یہ اسکیم 26 نومبر تک جاری رہے گی، اور ہر جمع شدہ فوڈ آئٹم کے بدلے 10 ڈالر جرمانہ کم کیا جائے گا، جبکہ کسی بھی شہری کو زیادہ سے زیادہ 100 ڈالر تک رعایت دی جا سکتی ہے۔

گزشتہ برس اس پروگرام میں 30 افراد نے حصہ لیا تھا، جن کی فراہم کردہ خوراک کی مالیت جرمانوں میں رعایت کی شکل میں 2,826 ڈالر تک پہنچی۔ کچھ شہریوں نے ضرورت سے زیادہ عطیہ کیا، جبکہ کچھ نے بغیر کسی جرمانے کے بھی صرف سماجی خدمت کے جذبے سے حصہ لیا۔