LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان خطے میں پائیدار امن و استحکام کا خواہاں ہے، یوسف رضا گیلانی اسحاق ڈار کا ناروے کے ہم منصب ایسپن بارتھ ایدے سے ٹیلی فونک رابطہ پاک بحریہ کی دفاعی صلاحیتوں کا سفر، آپریشن دوارکا سے معرکۂ حق تک پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکی آبدوز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ مزار قائد پر گارڈ تبدیلی کی پروقار تقریب، پاک فضائیہ نے فرائض سنبھال لیے خلیج میں امریکی فوجی اڈے برقرار رکھنا قابلِ عمل نہیں رہا: جنرل ڈیوڈ پیٹریاس روس اور یوکرین کے درمیان فضائی حملوں میں مختصر وقفے پر اتفاق پاسداران انقلاب کا امریکی بحری جہازوں اور 3 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو شہیدوں کے شہر لاڑکانہ آمد پر خوش آمدید، بلاول بھٹو 6 ستمبر کا دن یاد دلاتا ہے کہ قوم متحد ہو تو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی: صدر زرداری ایران کا برکس ممالک سے ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کا مطالبہ شادی کی تقریب پر حملے میں استعمال ہتھیار امریکی ساختہ تھے، ایرانی عدلیہ ٹرمپ کے نمائندہ وفد کی روسی صدر سے ملاقات، 3 گھنٹے سے زائد مذاکرات جاری رہے ایران کا خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کیلئے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان ایران جنگ سے متعلق معلومات لیک ہونے کی امریکی تحقیقات، ذمے دار کی شناخت نہ ہو سکی

مصر: منشیات کیس میں ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ سمیت 12 افراد کو سزائے موت

Web Desk

6 September 2026

قاہرہ: مصر کی ایک فوجداری عدالت نے بین الاقوامی منشیات سمگلنگ اور تیاری کے کیس میں معروف ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ سمیت 12 افراد کو سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے۔

عرب میڈیا اور مصری سرکاری اخبار ‘الاہرام’ کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان ایک ایسے منظم الجرائم گروہ کے ساتھ منسلک تھے جو منشیات کی تیاری کے لیے خام مال بیرونِ ملک سے برآمد کرتا تھا اور بعد ازاں اسے تیار کر کے ملکی و بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت کرتا تھا۔ مصری سیکیورٹی حکام نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کے قبضے سے 750 کلوگرام سے زائد اعلیٰ کوالٹی کی منشیات، خام مال اور غیر قانونی اسلاحہ و گولہ بارود برآمد کیا تھا۔

سماعت کے دوران استغاثہ نے 20 گواہوں کے بیانات اور اہم الیکٹرانک شواہد—بشمول آڈیو ریکارڈنگز اور ویڈیو کلپس—عدالت میں پیش کیے۔ اگرچہ ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ نے اپنے خلاف تمام الزامات کو مسترد کیا ہے، تاہم عدالت نے شواہد کی بنیاد پر سزائے موت کا حکم سنایا۔ مصری قانون کے تحت تمام محکومان کو حتمی فیصلے کے خلاف اعلٰی عدلیہ میں اپیل دائر کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔