LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سرکاری عہدہ ملازمت نہیں، عوامی خدمت کا ذریعہ ہے: مریم نواز فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ: بجلی 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی تیاری مشین ریڈایبل پاسپورٹ بند، اب صرف ای پاسپورٹ جاری ہوں گے سانحہ پشاور: سکول کی عمارت ناقص تعمیر کے باعث منہدم ہوئی، رپورٹ پولیس چیف کو ارسال پاکستان نے علاقائی استحکام کے فروغ کیلئے مؤثر کردار ادا کیا: رضوان سعید امریکی میڈیکیئر فنڈز میں 1 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے فراڈ میں مطلوب تین ملزمان کے پاکستان میں ہونے کا انکشاف ‘ہر شہری سے قربانی کی توقع کی جائے گی’، برطانوی فوج کے سربراہ نے جنگ کے خطرات کے حوالے سے انتباہ جاری کر دیا مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی قابضین کا فلسطینیوں اور امریکی صحافی پر حملہ سکیورٹی فورسز کا چاغی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک سعودیہ کو حوثیوں کیخلاف اسرائیلی مدد کی پیشکش قبول کرنی چاہئے: صدر ٹرمپ کا مشورہ پاکستان کا اسرائیلی قبضہ ختم کرنے، آزاد فلسطین کیلئے ناقابلِ تنسیخ مدت مقرر کرنے کا مطالبہ آسٹریلیا میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ، دو افراد ہلاک یورپی یونین کے سیٹلائٹ منصوبے کے منظوری کیلئے شراکت داروں کیساتھ مذاکرات جی سیون کا 44 ممالک میں غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کیلئے 2.5 بلین ڈالر مختص کرنے کا اعلان چین کا مسئلہ فلسطین کے دو ریستی حل کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان

امریکی صدر نے ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی

Web Desk

26 September 2026

امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی 7 روزہ جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے گفتگو کرتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ نومبر میں ہونے والے امریکی مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کو اس بات پر فی الحال یقین نہیں ہے کہ تہران واشنگٹن کے تمام مطالبات تسلیم کرے گا، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یا مڈ ٹرم نتائج کے بعد صدر ٹرمپ کا موقف تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے پیش کی گئی اس ۷ روزہ تجویز میں یہ شرط شامل تھی کہ اگر امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرے، تیل پر سے پابندیاں اٹھائے اور لبنانی محاذ پر بھی جنگ بندی کی پاسداری کرے، تو ایران بدلے میں تزویراتی نقطہ نظر سے اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ تجارتی نقل و حمل کے لیے کھول دے گا اور جوہری مذاکرات کا باقاعدہ آغاز کرے گا۔ تاہم امریکی انتظامیہ نے ثالثوں کو واضح کر دیا ہے کہ وہ ناکہ بندی ختم کرنے یا ایران کی ان شرائط کو ماننے کے موڈ میں نہیں ہے۔