امریکا کے ساتھ براہ راست بات اعتماد کے شدید فقدان کے باعث ممکن نہیں: ایرانی صدر
Web Desk
26 September 2026
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات واشنگٹن کی نا قابلِ اعتماد پالیسیوں اور سنگین تحفظات کے باعث فی الحال ممکن نہیں ہیں۔ ‘سی بی این نیوز’ (CBN News) کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ایرانی صدر نے کہا کہ اگر امریکہ تہران کی شرائط تسلیم کر لے تو ایران ثالثوں کے ذریعے پیش کی گئی تجویز کے تحت 7 دنوں کے اندر تزویراتی نقطہ نظر سے اہم ‘آبنائے ہرمز’ کو بین الاقوامی تجارتی نقل و حمل کے لیے دوبارہ کھول دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے ‘اسلام آباد مفاہمتی سمجھوتے’ کو بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔
مسعود پزشکیان نے زور دیا کہ ایران اگر کوئی وعدہ کرتا ہے تو اسے پورا کرتا ہے، اور تہران ‘جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے’ (NPT) کے فریم ورک کے تحت پابندیوں کے خاتمے کے بدلے جوہری پروگرام کی حدود اور تنصیبات کے نئے معائنے پر اتفاق کے لیے تیار ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اپنے ایٹمی پروگرام کو مکمل ختم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایرانی صدر نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دورانِ مذاکرات امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اور جب تک امریکہ یہ تحریری ضمانت نہیں دیتا کہ اس کا مقصد ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا نہیں ہے، دباؤ اور دھمکی کے تحت کوئی معاہدہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
متعلقہ عنوانات
انتظامی یونٹس میں اضافہ پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے: خالد مقبول صدیقی
18 October 2026
امریکا شرائط مانے تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھلے گا، ساتویں روز مذاکرات ہونگے: ایران
18 October 2026
خیبر پختونخوا کی معدنیات عوام کی ہیں اور رہیں گی: طارق فضل چودھری
18 October 2026
اسحاق ڈار کا ایرانی اور مصری وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
18 October 2026
خیبرپختونخوا کے عوام نے انتشاری ٹولے کو مسترد کردیا: امیر مقام
18 October 2026
مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب
18 October 2026
خواجہ آصف نے یوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت بارے سوالات اٹھا دیے
18 October 2026
دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹو
18 October 2026