افغان سرزمین سے دہشت گردی ختم کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں: اسحاق ڈار
Web Desk
26 September 2026
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کونسل کے غیر رسمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے لاحق دہشت گردی کا خطرہ خطے کے امن، استحکام اور ترقی کی تمام کوششوں کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کا فوری ازالہ کریں اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP)، بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اور دیگر وابستہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق (Verifiable) کارروائی کریں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، خوشحال اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے جو خطے میں مکمل طور پر ضم ہو کر اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ پُرامن زندگی گزارے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اسی مقصد کے تحت پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تعمیری روابط کی پالیسی اپنائی اور دوطرفہ و ٹرانزٹ تجارت کے فروغ کے لیے متعدد سہولتیں بھی فراہم کیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی اس مخلصانہ سوچ کے بدولت واحد اور بنیادی توقع یہی ہے کہ کابل حکومت اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔
علاقائی تجارت اور معیشت پر بات کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ تقریباً 80 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے اور 50 کروڑ آبادی پر مشتمل ای سی او (ECO) کا یہ خطہ اپنی حقیقی تجارتی صلاحیت کے مقابلے میں عالمی تجارت میں صرف 2.2 فیصد حصہ رکھتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ علاقائی تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے اب بھی وسیع گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسطی اور جنوبی ایشیا کو باہم ملانے والے رابطہ کاری (Connectivity) کے منصوبے خطے کی سوئی ہوئی اقتصادی صلاحیت کو بیدار کرنے کے نئے سنہری مواقع پیدا کر سکتے ہیں، اور پاکستان اس خطے کے لیے ایک اہم گیٹ وے کا کردار ادا کرنے اور وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب کی بندرگاہوں سے ملانے والے تجارتی راستوں کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے تیار ہے۔
اسحاق ڈار نے علاقائی انضمام کو مضبوط بنانے کے لیے ویزا کے نظام میں بہتری لانے، اشیا اور افراد کی آزادانہ و آسان نقل و حرکت، ڈیجیٹل انضمام اور ٹرانزٹ سسٹمز کو بہتر بنانے کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ای سی او کے 2026 سے 2035 کے اسٹریٹجک اہداف آنے والی دہائی میں باہمی تعاون کے لیے ایک عملی اور پرعزم فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر انہوں نے رواں سال نومبر میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ای سی او کونسل آف وزرائے خارجہ کے 30ویں اجلاس کی تیاریوں کا ذکر کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان تمام رکن ممالک اور ای سی او سیکریٹریٹ کے ساتھ مل کر خطے کی ترقی کے لیے بھرپور کام کرنے کا خواہاں ہے۔
متعلقہ عنوانات
انتظامی یونٹس میں اضافہ پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے: خالد مقبول صدیقی
18 October 2026
امریکا شرائط مانے تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھلے گا، ساتویں روز مذاکرات ہونگے: ایران
18 October 2026
خیبر پختونخوا کی معدنیات عوام کی ہیں اور رہیں گی: طارق فضل چودھری
18 October 2026
اسحاق ڈار کا ایرانی اور مصری وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
18 October 2026
خیبرپختونخوا کے عوام نے انتشاری ٹولے کو مسترد کردیا: امیر مقام
18 October 2026
مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب
18 October 2026
خواجہ آصف نے یوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت بارے سوالات اٹھا دیے
18 October 2026
دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹو
18 October 2026