LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو بروقت اقدام ہے، وزیراعظم شہباز شریف ایک ہی الزام پر ایف آئی اے دوبارہ انکوائری نہیں کرسکتی: عدالت فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون جاری رکھنے کا عزم خیبر پختونخوا اسمبلی میں ارکان کی گرفتاری کا طریقہ کار واضح، سپیکر کی اجازت لازمی افغان سرزمین سے دہشت گردی ختم کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں: اسحاق ڈار بھارت ریاستی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی میں ملوث ہے: صائمہ سلیم پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں کے ساتھ ہے: خواجہ آصف اسلام آباد میں احتجاج کے تماشے کو ہمیشہ کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا: رانا ثنا امریکا کے ساتھ براہ راست بات اعتماد کے شدید فقدان کے باعث ممکن نہیں: ایرانی صدر کانگو میں کارگو طیارہ گر کر تباہ، آڈیٹر جنرل سمیت 14 فوجی افسران ہلاک امریکا سے واپسی پر وزیراعظم لندن میں دو سے تین روز قیام کریں گے امریکی صدر نے ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی طالبان رجیم کی بدترین کارکردگی، افغانستان جنوبی ایشیا کا ناکام ترین ملک قرار بی جے پی کا ہندوتوا ایجنڈا، بھارت میں اسلام دشمنی سر چڑھ کر بولنے لگی وزیراعظم یو اے ای کے بھائی کی وفات، پاکستانی صحافیوں کی جانب سے تعزیتی ریفرنس

ایک ہی الزام پر ایف آئی اے دوبارہ انکوائری نہیں کرسکتی: عدالت

Web Desk

26 September 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو ایک ہی واقعے اور انہی الزامات کی بنیاد پر دوبارہ انکوائری کرنے سے سختی سے روک دیا ہے۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے شہری میر اویس کی درخواست پر تین صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ایف آئی اے پہلے سے زیرِ غور رہنے والے انہی الزامات پر محض دفتر یا تفتیشی افسر کی تبدیلی کی بنیاد پر دوبارہ نئی انکوائری شروع کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں رکھتی۔

تحریری فیصلے کے مطابق ایف آئی اے ایبٹ آباد اس سے پہلے ہی اسی واقعے اور الزامات کی مکمل انکوائری کرنے کے بعد معاملے کو باقاعدہ طور پر بند کر چکی تھی۔ تاہم، پہلی انکوائری بند ہونے کے کافی عرصے بعد ایف آئی اے اسلام آباد نے انہی پرانے الزامات پر دوبارہ کارروائی شروع کر دی تھی، حالانکہ موجودہ انکوائری کسی نئے یا الگ واقعے سے متعلق نہیں بلکہ ہو بہو وہی حقائق اور الزامات تھے جن کا پہلے قانونی جائزہ لیا جا چکا تھا۔

عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ایک ہی حقائق اور ایک ہی الزام کی بنیاد پر بار بار انکوائری کا عمل شہری کے آئینی تحفظ کے صریحاً منافی ہے۔ عدالت نے یہ اہم نکتہ بھی اٹھایا کہ ایک ہی معاملے پر دوبارہ کارروائی کرنا ملزم کو ڈبل جیپرڈی (Double Jeopardy)، یعنی ایک ہی جُرم یا معاملے میں بار بار تفتیش و کارروائی کا سامنا کرنے کے مترادف ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے اسلام آباد کی جانب سے شروع کی گئی بعد کی انکوائری اور ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 160 کے تحت جاری کیے گئے تمام نوٹسز کو قانونی اختیار سے عاری قرار دے دیا۔ عدالت نے ایف آئی اے کو انہی حقائق پر مزید انکوائری آگے بڑھانے سے روکتے ہوئے درخواست نمٹا دی ہے۔