LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
خیبر پختونخوا اسمبلی میں ارکان کی گرفتاری کا طریقہ کار واضح، سپیکر کی اجازت لازمی افغان سرزمین سے دہشت گردی ختم کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں: اسحاق ڈار بھارت ریاستی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی میں ملوث ہے: صائمہ سلیم پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں کے ساتھ ہے: خواجہ آصف اسلام آباد میں احتجاج کے تماشے کو ہمیشہ کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا: رانا ثنا امریکا کے ساتھ براہ راست بات اعتماد کے شدید فقدان کے باعث ممکن نہیں: ایرانی صدر کانگو میں کارگو طیارہ گر کر تباہ، آڈیٹر جنرل سمیت 14 فوجی افسران ہلاک امریکا سے واپسی پر وزیراعظم لندن میں دو سے تین روز قیام کریں گے امریکی صدر نے ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی طالبان رجیم کی بدترین کارکردگی، افغانستان جنوبی ایشیا کا ناکام ترین ملک قرار بی جے پی کا ہندوتوا ایجنڈا، بھارت میں اسلام دشمنی سر چڑھ کر بولنے لگی وزیراعظم یو اے ای کے بھائی کی وفات، پاکستانی صحافیوں کی جانب سے تعزیتی ریفرنس وزیر داخلہ سندھ نے ہندو تاجر کے قتل کے واقعہ کا نوٹس لے لیا امریکا، عراق معاہدہ: بغداد میں امریکی سفارتخانے کا کنٹرول مقامی انتظامیہ کے سپرد نیتن یاہو ہولناک نسل کشی کے معمار، فلسطینیوں بارے جھوٹ پھیلاتے ہیں، ظہران ممدانی

بھارت ریاستی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی میں ملوث ہے: صائمہ سلیم

Web Desk

26 September 2026

اقوام متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی دوٹوک اور سخت الفاظ میں کہا ہے کہ بھارت ریاستی سطح پر جھوٹے پروپیگنڈے اور دہشت گردی کی پشت پناہی میں براہِ راست ملوث ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی بہت بھاری قیمت چکائی ہے، اور بھارت کالعدم تنظیموں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ جیسے دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت کر رہا ہے۔

پاکستانی سفارتکار نے عالمی برادری کو بتایا کہ پاکستان نے اس حوالے سے ٹھوس شواہد دنیا کے سامنے رکھ دیے ہیں، جبکہ کلبھوشن یادیو اور نکھل گپتا کے مقدمات اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ بھارت کس طرح عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بیرون ملک دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے دیرینہ مسئلے پر بات کرتے ہوئے صائمہ سلیم نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ مقبوضہ کشمیر نہ تو ماضی میں بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ آج ہے اور نہ کبھی مستقبل میں ہوگا، کیونکہ یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے جہاں کے عوام اپنے بنیادی حقوق اور حقِ خودارادیت سے محروم رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بھارت میں ’ہندوتوا‘ کے متعصبانہ نظریے کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں وہاں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور نفرت انگیز رویوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔

بھارتی آبی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی مذموم کوششیں کی ہیں اور وہ پانی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی گھناؤنی سازش کر رہا ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر صائمہ سلیم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، باہمی احترام، بامعنی مذاکرات اور تمام تنازعات کے پرامن حل کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ تاہم انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر پاکستان پر کوئی مسلط کردہ جارحیت کی گئی تو وہ اپنی ملکی خودمختاری اور دفاع کے لیے بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، کیونکہ حقیقی اور پائیدار طاقت جنگیں مسلط کرنے میں نہیں بلکہ امن قائم کرنے اور اس کے دفاع کی بھرپور صلاحیت میں پوشیدہ ہے۔