LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور

کانگو میں موذی مرض ایبولا کی ہلاکت خیزی جاری، 2800 افراد جان سے گئے

Web Desk

31 August 2026

کنشاسا: جمہوری جمہوریہ کانگو میں مئی سے پھیلنے والی ایبولا وائرس کی وبا انتہائی خطرناک اور سنگین صورتحال اختیار کر گئی ہے، جس کے نتیجے میں جان لیوا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 2 ہزار 800 سے تجاوز کر گئی ہے۔

وزارتِ صحت کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک کے 6 متاثرہ صوبوں (ہاؤت اوئیلے، اٹوری، نارتھ کیوو، ساؤتھ کیوو، باس اوئیلے اور ٹشوپو) کے 60 ہیلتھ زونز میں اب تک ایبولا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 5 ہزار 945 تک پہنچ چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق 1,327 افراد صحتیاب ہونے میں کامیاب رہے جبکہ 896 مریض اس وقت بھی مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج یا قرنطینہ میں ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے متنبہ کیا ہے کہ کانگو میں وائرس کی ‘بنڈی بگيو’ (Bundibugyo) نامی قسم تیزی سے جینیاتی تبدیلیاں لا رہی ہے جس کی وجہ سے یہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں تیزی سے منتقل ہو رہا ہے۔

صورتحال کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے کانگو حکومت نے گزشتہ ہفتے سے ہنگامی بنیادوں پر ویکسینیشن مہم کا آغاز کر دیا ہے، جس میں طبی عملے اور فرنٹ لائن ورکرز کو ترجیحی بنیادوں پر حفاظتی قطرے اور ویکسین دی جا رہی ہے۔ وبا کے خلاف کارروائی میں شامل ڈاکٹر رچرڈ کیتینج کا کہنا ہے کہ اس وائرس پر قابو پانے کے لیے عوام کا تعاون اور احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونا انتہائی ضروری ہے تا کہ بروقت نشاندہی سے وبا کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔