ڈریپ کی سروے رپورٹ: 55 فیصد ادویات مہنگی فروخت ہونے کا انکشاف
Web Desk
7 May 2026
وفاقی وزارتِ صحت نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ فروری 2024 میں نان ایشینشل ادویات کو ڈی ریگولیٹ کیے جانے کے بعد سے قیمتوں کے تعین میں وزارت کا کوئی فعال کردار نہیں رہا۔ تھرڈ پارٹی کے ذریعے 6 بڑے شہروں کے 192 اسٹورز پر کیے گئے سروے کے مطابق، 2024 سے 2026 کے درمیان مختلف ادویات کی قیمتوں میں 300 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے کینسر کی ایک دوا کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ 1 لاکھ 60 ہزار والی دوا کی قیمت 1 لاکھ 80 ہزار نہ کرنے پر کمپنی نے اسے مارکیٹ سے اٹھا لیا، جو اب بلیک مارکیٹ میں ساڑھے چار لاکھ روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ملک میں ہر چیز مہنگی ہو رہی ہے تو ادویات کی قیمتوں کا بڑھنا ناگزیر ہے، لہٰذا کاروباری طبقے کو دشمن سمجھنے کے بجائے حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا۔
متعلقہ عنوانات
پولٹری فارمنگ انسانی صحت کیلئے مضر؟ نئی تحقیق
31 July 2026
مہنگائی اور بے روزگاری سے ذہنی بیماریوں میں خطرناک اضافہ، ماہرین کا انتباہ
31 July 2026
ملک کے جنوبی علاقوں میں ڈینگی وائرس پھیلنے کا امکان: ماہرین کا انتباہ
31 July 2026
ہسپتال بنا کر علاج کرنا ہیلتھ کیئر نہیں، انسانوں کو بیماریوں سے بچانا حقیقی صحت ہے۔وفاقی وزیر صحت
31 July 2026
مون سون میں فالج کا خطرہ کیوں بڑھ سکتا ہے؟ ماہرین نے اہم احتیاطی تدابیر بتا دیں
30 July 2026
امریکن ریڈ کراس کا خون کے ذخائر کی دوسری قومی سطح کی قلت کا اعلان
30 July 2026
بیشتر معمر افراد 8 گھنٹے تک سونے کے باوجود پُر سکون نیند سے محروم
30 July 2026
ایف آئی اے کی کارروائی، جعلی ادویات تیار کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب
29 July 2026