فلاسنگ کرنا 50 سے زائد بیماریوں کے خطرات کم کرتا ہے: ماہر
Web Desk
17 February 2026
ایک ماہر نے دعویٰ کیا ہے کہ فلاسنگ (دانتوں کے درمیان خلال کرنا) 50 سے زائد سنگین بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق دانتوں اور مسوڑھوں کو اچھی حالت میں رکھنا دراصل مجموعی صحت کے لیے نہایت اہم ہے اور اسے ’صحت کا دروازہ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
سوزش اور بیماریوں کا تعلق
ماہرین کا کہنا ہے کہ فلاسنگ سوزش (Inflammation) کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ سوزش کو کئی بڑی بیماریوں سے جوڑا جاتا ہے، جن میں:
-
ذیابیطس
-
ڈیمنشیا
-
دل کی بیماریاں
-
فالج
-
سانس کی بیماریاں
شامل ہیں۔ جب مسوڑھوں میں انفیکشن یا سوزش پیدا ہوتی ہے تو جراثیم خون کی نالیوں کے ذریعے جسم کے دیگر حصوں تک پہنچ سکتے ہیں، جس سے مختلف اعضا متاثر ہو سکتے ہیں۔
این ایچ ایس کے اعداد و شمار
این ایچ ایس کے اعداد و شمار کے مطابق 41 فیصد بالغ افراد ٹوتھ ڈیکے (دانتوں کی خرابی) کا شکار ہیں، جبکہ تقریباً نصف آبادی مسوڑھوں کی بیماری میں مبتلا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیماریاں جسم میں دائمی سوزش کو بڑھا سکتی ہیں۔
ماہرین کی ہدایات
دانتوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ:
-
دن میں کم از کم دو مرتبہ برش کریں۔
-
روزانہ باقاعدگی سے فلاسنگ کریں۔
-
سال میں کم از کم ایک بار ڈینٹل چیک اپ کروائیں۔
ان کے مطابق دانتوں اور مسوڑھوں کی مناسب دیکھ بھال نہ صرف منہ کی صحت بہتر بناتی ہے بلکہ مجموعی جسمانی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔
متعلقہ عنوانات
جنگلات کی آگ کا دھواں دیگر فضائی آلودگی سے زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے: تحقیق
19 September 2026
موسیقی ذہنی دباؤ سے بحالی میں مددگار قرار، تحقیق
18 September 2026
مصنوعی مٹھاس سے فالج کا خطرہ، نئی تحقیق میں دماغی خلیوں کے نقصان کا خدشہ
18 September 2026
پاکستان میں ہیگزویلنٹ ویکسین متعارف کروانے کی منظوری دے دی گئی
18 September 2026
ایم ڈی کیٹ 2026: امتحانی پرچے سخت سکیورٹی میں 14 شہروں کیلئے روانہ
18 September 2026
مصنوعی مٹھاس سے فالج کا خطرہ، نئی تحقیق میں دماغی خلیوں کے نقصان کا خدشہ
18 September 2026
ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم
17 September 2026
پمز ہسپتال کی آتشزدگی میں زندہ بچ جانے والی نومولود بچی انتقال کر گئی
17 September 2026