LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

مصنوعی مٹھاس سے فالج کا خطرہ، نئی تحقیق میں دماغی خلیوں کے نقصان کا خدشہ

Web Desk

18 September 2026

مصنوعی مٹھاس (Artificial Sweetener) کے طور پر وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے کیمیائی مرکب ‘اسپرٹیم’ (Aspartame) کے حوالے سے ایک نئی طبی تحقیق نے فالج کے دوران دماغی بافتوں کو پہنچنے والے شدید نقصان سے متعلق اہم اور تشویشناک سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسپرٹیم کا استعمال فالج کی صورت میں دماغی خلیوں کی موت اور معذوری کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے، تاہم طبی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ان نتائج کی انسانوں پر حتمی تصدیق کے لیے مزید وسیع تجربات کی ضرورت ہے۔ اسپرٹیم عام طور پر ڈائٹ اور زیرو شوگر کولڈ ڈرنکس، شوگر فری چیونگ گم اور کم کیلوریز والی مٹھائیوں میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔

لیبارٹری میں چوہوں پر کی گئی اس تحقیق کے دوران ایک ہفتے تک اسپرٹیم ملا پانی پلانے کے بعد ان میں ‘اسکیمک فالج’ (Ischemic Stroke) جیسی کیفیت پیدا کی گئی۔ نتائج کے مطابق جن چوہوں کو اسپرٹیم نہیں دیا گیا تھا ان کے دماغی بافتوں (Brain Tissues) کا مردہ رقبہ تقریباً ۲۴.۳ فیصد رہا، جبکہ زیادہ مقدار میں اسپرٹیم کا استعمال کرنے والے چوہوں میں یہ شرح تشویشناک حد تک بڑھ کر ۵۸.۶ فیصد تک جا پہنچی۔ اسپرٹیم کے باعث خاص طور پر ‘سیریبرل کارٹیکس’ اور ‘ہپپو کیمپس’ میں خلیوں کی وسیع پیمانے پر ہلاکت دیکھی گئی، جو کہ انسانوں میں بھی سوچنے، سیکھنے اور یادداشت جیسے اہم افعال انجام دیتے ہیں۔

تحقیق کے دیگر تفصیلی تجربات کے دوران انسانی اور جانوروں کے دماغی خلیوں میں توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت ۲۵ فیصد تک کم پائی گئی۔ محققین کے مطابق اسپرٹیم خلیوں کے توانائی مرکز ‘مائٹوکونڈریا’ (Mitochondria) کو نقصان پہنچاتا ہے اور اندرونی آکسیڈیٹو اسٹریس میں اضافہ کرتا ہے۔ علاوہ ازیں، ٹیسٹ کے دوران دیگر دو مصنوعی سویٹنرز ‘سکرالوز’ (Sucralose) اور ‘ایسیسلفیم پوٹاشیم’ کا بھی جائزہ لیا گیا لیکن ان میں اسپرٹیم جیسا زہریلا اثر سامنے نہیں آیا۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق عام حالات میں اسپرٹیم کے نقصان دہ ہونے کا براہِ راست ثبوت نہیں، بلکہ اس کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ فالج کے دوران آکسیجن کی شدید کمی میں یہ مرکب مزید کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے۔