LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز میں لڑائی، 24 گھنٹوں میں 68 ہلاکتیں اسحاق ڈار سے ترک سفیر، برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقاتیں، علاقائی صورتحال پر مشاورت پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان کا سلسلہ برقرار وزیراعظم کا زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اظہارِ تشکر میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کا سینئر پولیس افسران سے تحریری جواب لینے کا فیصلہ جماعت اسلامی نے لاہور مال روڈ دھرنا 33 روز بعد ختم کر دیا خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں: 17 دہشت گرد ہلاک، 9 جوان شہید، بھاری اسلحہ برآمد شہداء کی عظیم قربانیاں قوم کیلئے مشعلِ راہ، لہو رائیگاں نہیں جائے گا: صدر، وزیراعظم امریکی رکن کانگریس الہان عمر پر سرکہ پھینکنے والے شخص کو سزا سنا دی گئی

پمز ہسپتال کی آتشزدگی میں زندہ بچ جانے والی نومولود بچی انتقال کر گئی

Web Desk

17 September 2026

اسلام آباد کے پمز (PIMS) اسپتال میں رونما ہونے والے آتشزدگی کے دلخراش واقعے میں زندہ بچ جانے والی واحد بچی ایزل بھی دورانِ علاج دم توڑ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پمز کے شعبہ اطفال میں آگ لگنے کے دوران ایک فرض شناس نرس نے ۶ ماہ کی معصوم بچی ایزل کو اپنی جان پر کھیل کر بحفاظت باہر نکال لیا تھا، جس کے بعد اسے تشویشناک حالت میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں زیرِ علاج رکھا گیا تھا، تاہم وہ زخموں اور دھویں کے اثرات کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئی۔

بچی ایزل کے انتقال کے بعد پمز اسپتال آتشزدگی کے المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر ۱۵ ہو گئی ہے۔ بچی کی والدہ آصفہ بی بی نے انتہائی غمزدہ حالت میں بتایا کہ ایزل ۱۲ اگست کو پیدا ہوئی تھی اور اس کی عمر محض ۶ ماہ ۱۰ دن تھی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ان کی پہلی اور اکلوتی اولاد تھی، اور دم گھٹنے کے باعث شدید دھویں نے معصوم بچی کے پھیپھڑوں کو بری طرح متاثر کیا تھا جو اس کی موت کا سبب بنا۔

اس المناک پیش رفت نے اسپتال انتظامیہ کی حفاظتی تدابیر اور ایمرجنسی رسپانس پر مزید سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ معصوم بچی ایزل کے انتقال کے بعد واقعے پر عوامی اور سماجی حلقوں میں غم و غصے کی شدید لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ متاثرہ والدین اور شہریوں کی جانب سے حادثے کی اعلیٰ سطح تحقیقات اور ذمہ داران کا تعین کر کے انہیں سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبات مزید زور پکڑ گیا ہے۔