LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

پمز ہسپتال کی آتشزدگی میں زندہ بچ جانے والی نومولود بچی انتقال کر گئی

Web Desk

17 September 2026

اسلام آباد کے پمز (PIMS) اسپتال میں رونما ہونے والے آتشزدگی کے دلخراش واقعے میں زندہ بچ جانے والی واحد بچی ایزل بھی دورانِ علاج دم توڑ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پمز کے شعبہ اطفال میں آگ لگنے کے دوران ایک فرض شناس نرس نے ۶ ماہ کی معصوم بچی ایزل کو اپنی جان پر کھیل کر بحفاظت باہر نکال لیا تھا، جس کے بعد اسے تشویشناک حالت میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں زیرِ علاج رکھا گیا تھا، تاہم وہ زخموں اور دھویں کے اثرات کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئی۔

بچی ایزل کے انتقال کے بعد پمز اسپتال آتشزدگی کے المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر ۱۵ ہو گئی ہے۔ بچی کی والدہ آصفہ بی بی نے انتہائی غمزدہ حالت میں بتایا کہ ایزل ۱۲ اگست کو پیدا ہوئی تھی اور اس کی عمر محض ۶ ماہ ۱۰ دن تھی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ان کی پہلی اور اکلوتی اولاد تھی، اور دم گھٹنے کے باعث شدید دھویں نے معصوم بچی کے پھیپھڑوں کو بری طرح متاثر کیا تھا جو اس کی موت کا سبب بنا۔

اس المناک پیش رفت نے اسپتال انتظامیہ کی حفاظتی تدابیر اور ایمرجنسی رسپانس پر مزید سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ معصوم بچی ایزل کے انتقال کے بعد واقعے پر عوامی اور سماجی حلقوں میں غم و غصے کی شدید لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ متاثرہ والدین اور شہریوں کی جانب سے حادثے کی اعلیٰ سطح تحقیقات اور ذمہ داران کا تعین کر کے انہیں سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبات مزید زور پکڑ گیا ہے۔