LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سول سروس میں اصلاحات کیلئے سمارٹ ریفارمز پیکیج تیار، اہم ترامیم کی تجویز مشترکہ جائیداد کی نیلامی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنا لازمی قرار عدالتی فائل گمشدگی کیس، سزا پانے والا اہلکار 15 سال بعد بری امریکی صدر ٹرمپ نے روس اور ایران پر پابندیوں کے بل پر دستخط کر دیے سکیورٹی فورسز کی پنجگور اور چاغی میں کارروائیاں، 11 دہشتگرد ہلاک کیوبا میں ایک سال میں ساتواں بلیک آؤٹ، پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا ایران کی کوہاٹ میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت، حکومت اورعوام سے تعزیت کا اظہار حوثی ملیشیا بحیرۂ احمر میں اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے: پاکستان آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا: برطانیہ میری ٹائم کی تصدیق دشمن ملک سے خطرات: ایران نے 3 لاکھ 13 ہزار جانثار متحرک کر دیئے امریکا کا گرین لینڈ پر مستقل سکیورٹی کنٹرول، معاہدہ طے پا گیا: ٹرمپ کا دعویٰ جنوبی کوریا کا امریکا اور اسرائیل کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں فوج بھیجنے سے انکار نمازیوں کو مقدس مقام پر نشانہ بنانا انتہائی سفاکانہ اور انسانیت سوز فعل ہے: حنیف عباسی دہشتگردی کے بزدلانہ واقعات قوم کے عزم، حوصلے کو متزلزل نہیں کر سکتے: اویس لغاری سال کے اختتام تک 3 لاکھ افراد کو فوج میں بھرتی کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، کریملن

سول سروس میں اصلاحات کیلئے سمارٹ ریفارمز پیکیج تیار، اہم ترامیم کی تجویز

Web Desk

19 September 2026

وفاقی سول سروس میں وسیع پیمانے پر بنیادی اصلاحات اور نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی نے ‘سمارٹ ریفارمز پیکیج’ تیار کر لیا ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی نے بھارت سمیت ۲۵ ممالک کے سول سروس نظاموں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد حتمی سفارشات مرتب کی ہیں۔ اس اصلاحاتی پیکیج کے تحت ‘سول سرونٹس ایکٹ ۱۹۷۳’ اور ‘رولز آف بزنس ۱۹۷۳’ میں مجموعی طور پر ۲۲ ترامیم کے ساتھ ساتھ ۳ نئے قوانین متعارف کرانے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ ان تبدیلیوں کے لیے آئین میں کسی قسم کی ترمیم کی ضرورت نہیں ہو گی۔

مجوزہ اصلاحات کے تحت سی ایس ایس (CSS) امتحانی نظام میں اہم تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں، جن میں ابتدائی ٹیسٹ (MTP) کی پاسنگ کی حد ۳۳ فیصد سے بڑھا کر ۴۰ فیصد کرنا، منفی مارکنگ کا خاتمہ اور امیدواروں کی تجزیاتی صلاحیت جانچنے کا نیا طریقہ شامل ہے۔ علاوہ ازیں، انگریزی اور اردو کی شرط برقرار رکھتے ہوئے مضمون، پریسی و کمپوزیشن، اسلامیات، مطالعہ پاکستان اور کرنٹ افیئرز کے پرچے اردو میں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ ایک روزہ روایتی انٹرویو کی جگہ آئی ایس ایس بی (ISSB) طرز پر جامع جائزہ لیا جائے گا اور بھرتی کا تمام عمل ۶ ماہ کے اندر مکمل کیا جائے گا۔ نیز کامیاب امیدواروں کی تعیناتی ان کی تعلیمی ڈگری سے متعلقہ آسامیوں پر کی جائے گی۔

اصلاحاتی پیکیج میں افسران کی ترقی اور مراعات کو سنیارٹی کے بجائے کارکردگی سے مشروط کرنے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا نام تبدیل کر کے ‘ہیومن ریسورس آرگنائزیشن ڈیویلپمنٹ ڈویژن’ رکھنے اور ۱۱ نئے پیشہ ورانہ گروپس تشکیل دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ گریڈ ۲۰ اور اس سے اوپر کے افسران کے لیے ‘نیشنل ایگزیکٹو سروس’ اور تمام تربیتی اداروں کو ضم کر کے ‘نیشنل یونیورسٹی آف پبلک ایڈمنسٹریشن’ قائم کی جائے گی۔ مالیاتی مراعات کے تحت ملازمین کی تنخواہوں میں سالانہ مہنگائی کے حساب سے خودکار اضافہ، پرفارمنس کی بنیاد پر ۵ فیصد اضافی فنڈز، گاڑیوں کے لیے آسان قرضے اور ریٹائرمنٹ پر ۵۰ لاکھ روپے کی یکمشت رقم شامل ہے۔ اصلاحات کی حتمی منظوری وزیراعظم دیں گے اور اس پر عملدرآمد کی ماہانہ بنیادوں پر نگرانی کی جائے گی۔