LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خاران میں دہشت گردوں کا مسافر گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ، مزدور زخمی وزیر داخلہ محسن نقوی کی شہید کیپٹن حمزہ اکرم کے گھر آمد، اہلخانہ سے تعزیت صاف ستھرا پنجاب صحت مند اور خوشحال مستقبل کی بنیاد ہے، مریم نواز جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کیلئے اسحاق ڈار نیویارک روانہ ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ شروع، ایک لاکھ 38 ہزار 158 امیدوار شریک کوئٹہ میں سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کا مجسمہ دوبارہ نصب آج کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن سے تاریخی مارچ کا آغاز ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حوثی ملیشیا کا ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا 4 فلسطین نواز کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ، تیونس میں سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدہ گرین لینڈ کی خودمختاری کو متاثر نہیں کرے گا، ڈنمارک اسرائیلی فوج کی غزہ اور جنوبی لبنان میں بمباری، غزہ میں 3 افراد شہید ایران کی ستمبر میں تیل کی فروخت 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت واشنگٹن کا کرم نہیں ہمارا قانونی حق ہے: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ امریکی فوج کا آبنائے ہرمز کے راستے تجارت کا حجم 6 ماہ کی بلند ترین سطح پر آنے کا دعویٰ 3 امریکی نیوز اداروں کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روک دیا گیا

سال کے اختتام تک 3 لاکھ افراد کو فوج میں بھرتی کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، کریملن

Web Desk

19 September 2026

روس کے دارالحکومت ماسکو میں کریملن نے ان خبروں کی باضابطہ تردید کر دی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ روسی حکومت رواں سال 2026ء کے اختتام تک مزید 3 لاکھ افراد کو فوج میں بھرتی کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے ایک پریس بریفنگ میں واضح کیا کہ روس کے پاس سال کے اختتام تک 3 لاکھ افراد کو متحرک (mobilize) کر کے مسلح افواج کا حصہ بنانے کی کوئی تجاویز یا منصوبے زیرِ غور نہیں ہیں۔

اس سے قبل بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ نے ایک یورپی سیکیورٹی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ شائع کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ روس رواں سال کے اختتام تک 3 لاکھ شہریوں کو فوج میں لانے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ جب صحافیوں نے اس حوالے سے صدارتی ترجمان دیمتری پیسکوف سے جواب طلب کیا تو انہوں نے مغربی میڈیا کے اس دعوے کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور دہرایا کہ 3 لاکھ اضافی افراد کو فوج میں بھرتی کرنے سے متعلق پھیلائی جانے والی اطلاعات میں کوئی سچائی نہیں ہے۔