LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سول سروس میں اصلاحات کیلئے سمارٹ ریفارمز پیکیج تیار، اہم ترامیم کی تجویز مشترکہ جائیداد کی نیلامی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنا لازمی قرار عدالتی فائل گمشدگی کیس، سزا پانے والا اہلکار 15 سال بعد بری امریکی صدر ٹرمپ نے روس اور ایران پر پابندیوں کے بل پر دستخط کر دیے سکیورٹی فورسز کی پنجگور اور چاغی میں کارروائیاں، 11 دہشتگرد ہلاک کیوبا میں ایک سال میں ساتواں بلیک آؤٹ، پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا ایران کی کوہاٹ میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت، حکومت اورعوام سے تعزیت کا اظہار حوثی ملیشیا بحیرۂ احمر میں اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے: پاکستان آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا: برطانیہ میری ٹائم کی تصدیق دشمن ملک سے خطرات: ایران نے 3 لاکھ 13 ہزار جانثار متحرک کر دیئے امریکا کا گرین لینڈ پر مستقل سکیورٹی کنٹرول، معاہدہ طے پا گیا: ٹرمپ کا دعویٰ جنوبی کوریا کا امریکا اور اسرائیل کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں فوج بھیجنے سے انکار نمازیوں کو مقدس مقام پر نشانہ بنانا انتہائی سفاکانہ اور انسانیت سوز فعل ہے: حنیف عباسی دہشتگردی کے بزدلانہ واقعات قوم کے عزم، حوصلے کو متزلزل نہیں کر سکتے: اویس لغاری سال کے اختتام تک 3 لاکھ افراد کو فوج میں بھرتی کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، کریملن

مشترکہ جائیداد کی نیلامی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنا لازمی قرار

Web Desk

19 September 2026

لاہور ہائیکورٹ نے جائیداد کی نیلامی کے خلاف دائر سول نظرثانی کی درخواست پر اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے ایگزیکیوٹنگ کورٹ کا ساڑھے ۳۶ لاکھ روپے کی نیلامی کی توثیق کا حکم کالعدم قرار دے دیا ہے۔ جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے سائل غلام محمد کی نظرثانی درخواست پر ۸ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جسے باضابطہ طور پر عدالتی نظیر (Legal Precedent) بھی قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب پارٹیشن آف امویبل پراپرٹی ایکٹ کے تحت کھلی نیلامی سے قبل تمام شریک مالکان کے درمیان اندرونی نیلامی (Internal Auction) کرانا قانونی طور پر فرض ہے، جبکہ ریزرو پرائس کا قانون کے مطابق درست تعین کیے بغیر کسی نیلامی کی توثیق نہیں کی جا سکتی۔

عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ محض سب سے زیادہ بولی (Highest Bid) دینے والے کا سامنے آ جانا نیلامی کے بنیادی طریقہ کار کی قانونی خامیوں اور بے ضابطگیوں کو ختم نہیں کرتا۔ عدالتی نیلامی میں مکمل شفافیت اور تمام شریک مالکان کے آئینی و قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ ہائیکورٹ نے سابقہ ۵۰ لاکھ روپے کی بولی کے وجود کے باوجود ساڑھے ۳۶ لاکھ روپے کی کم قیمت میں نیلامی کی منظوری پر سخت اعتراض اٹھاتے ہوئے نچلی عدالت کا فیصلہ منسوخ کر دیا۔

فیصلے کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے ایگزیکیوٹنگ کورٹ کو متاثرہ فریق کے حصے اور اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کا ازسرنو قانونی تعین کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ خریدار کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ درخواست گزار کے حصے کی رقم نئی طے شدہ مارکیٹ قیمت کے مطابق ادا کرے؛ تاہم اگر خریدار مقررہ رقم ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو درخواست گزار کے حصے کی دوبارہ قانونی نیلامی کی جائے گی، جبکہ دیگر شریک مالکان کی حد تک خرید و فروخت اور خریدار کے حاصل کردہ حقوق برقرار رہیں گے۔ عدالت نے قرار دیا کہ جائیداد کی ملکیت اور حصوں سے متعلق ابتدائی ڈگری کی قانونی حیثیت بحال رہے گی۔ ہائیکورٹ نے سول نظرثانی کی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے کیس دوبارہ فیصلے کے لیے ایگزیکیوٹنگ کورٹ کو ریمانڈ کر دیا ہے اور تمام کارروائی ۳ ماہ کے اندر مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔