LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سکیورٹی فورسز کی پنجگور اور چاغی میں کارروائیاں، 11 دہشتگرد ہلاک کیوبا میں ایک سال میں ساتواں بلیک آؤٹ، پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا ایران کی کوہاٹ میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت، حکومت اورعوام سے تعزیت کا اظہار حوثی ملیشیا بحیرۂ احمر میں اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے: پاکستان آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا: برطانیہ میری ٹائم کی تصدیق دشمن ملک سے خطرات: ایران نے 3 لاکھ 13 ہزار جانثار متحرک کر دیئے امریکا کا گرین لینڈ پر مستقل سکیورٹی کنٹرول، معاہدہ طے پا گیا: ٹرمپ کا دعویٰ جنوبی کوریا کا امریکا اور اسرائیل کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں فوج بھیجنے سے انکار نمازیوں کو مقدس مقام پر نشانہ بنانا انتہائی سفاکانہ اور انسانیت سوز فعل ہے: حنیف عباسی دہشتگردی کے بزدلانہ واقعات قوم کے عزم، حوصلے کو متزلزل نہیں کر سکتے: اویس لغاری سال کے اختتام تک 3 لاکھ افراد کو فوج میں بھرتی کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، کریملن ٹرمپ نے 3 بڑے میڈیا اداروں پر وائٹ ہاؤس میں کوریج پر پابندی لگا دی روسی ہتھیار دنیا کے قابل اعتماد اور مؤثر ترین ہتھیاروں میں شامل ہیں، صدر پوتن ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ مالی و عسکری لحاظ سے نقصان اٹھا رہا ہے، ٹرمپ ایشین گیمز کی افتتاحی تقریب اور ایونٹ کا باقاعدہ آغاز آج سے ہوگا

جنوبی کوریا کا امریکا اور اسرائیل کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں فوج بھیجنے سے انکار

Web Desk

19 September 2026

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے ایک اہم پالیسی بیان میں واضح کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری معرکے کے دوران جنوبی کوریا اپنے فوجی دستے براہِ راست جنگی کارروائیوں کے لیے نہیں بھیجے گا۔ جنوبی کوریا کے صدر نے اپنی حکومتی حکمتِ عملی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک کا کردار فعال جنگ میں براہِ راست شرکت کے بجائے صرف عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے راستوں اور تجارتی جہازوں کی بحفاظت آمدورفت کو یقینی بنانے تک ہی محدود رہے گا۔

صدر لی جے میونگ کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی کوریا خطے میں اپنے ملکی مفادات، تجارتی سرگرمیوں اور شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام تر ضروری دفاعی و سفارتی اقدامات ضرور کرے گا، تاہم کسی بھی حالت میں خطے کی جنگ میں براہِ راست ملٹری مداخلت نہیں کی جائے گی۔ جنوبی کوریائی صدر کا یہ اہم موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی گہراؤ کے باعث عالمی مارکیٹ میں توانائی کی ترسیل اور بحری تجارتی راستوں کی مجموعی سلامتی پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔