LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خاران میں دہشت گردوں کا مسافر گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ، مزدور زخمی وزیر داخلہ محسن نقوی کی شہید کیپٹن حمزہ اکرم کے گھر آمد، اہلخانہ سے تعزیت صاف ستھرا پنجاب صحت مند اور خوشحال مستقبل کی بنیاد ہے، مریم نواز جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کیلئے اسحاق ڈار نیویارک روانہ ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ شروع، ایک لاکھ 38 ہزار 158 امیدوار شریک کوئٹہ میں سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کا مجسمہ دوبارہ نصب آج کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن سے تاریخی مارچ کا آغاز ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حوثی ملیشیا کا ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا 4 فلسطین نواز کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ، تیونس میں سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدہ گرین لینڈ کی خودمختاری کو متاثر نہیں کرے گا، ڈنمارک اسرائیلی فوج کی غزہ اور جنوبی لبنان میں بمباری، غزہ میں 3 افراد شہید ایران کی ستمبر میں تیل کی فروخت 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت واشنگٹن کا کرم نہیں ہمارا قانونی حق ہے: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ امریکی فوج کا آبنائے ہرمز کے راستے تجارت کا حجم 6 ماہ کی بلند ترین سطح پر آنے کا دعویٰ 3 امریکی نیوز اداروں کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روک دیا گیا

جنگلات کی آگ کا دھواں دیگر فضائی آلودگی سے زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے: تحقیق

Web Desk

19 September 2026

امریکہ کے اعلیٰ طبي ادارے ‘آئیکن اسکول آف میڈیسن’ (Icahn School of Medicine) کے محققین نے دو اہم اور تفصیلی مطالعات میں خبردار کیا ہے کہ جنگلات کی آگ (Wildfires) سے پیدا ہونے والا دھواں انسانی صحت پر عام فضائی آلودگی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہلک اور سنگین اثرات مرتب کرتا ہے۔ محقق مِن ژینگ اور سینئر مصنف یاگوانگ وی کی قیادت میں کی جانے والی اس اہم تحقیق کے نتائج عالمی شہرت یافتہ طبی جرائد ‘نیچر کمیونیکیشنز’ (Nature Communications) اور ‘دی لانسیٹ اونکالوجی’ (The Lancet Oncology) میں شائع ہوئے ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے خاص طور پر انتہائی باریک آلودگی کے ذرات ‘پی ایم 2.5’ (PM2.5) کا باریک بینی سے جائزہ لیا، جو انسانی پھیپھڑوں کی گہرائی تک پہنچ کر خون کے بہاؤ میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نتائج کے مطابق جنگلات کی آگ سے نکلنے والے PM2.5 کے فی یونٹ ایکسپوژر کے باعث بالترتیب دل اور سانس کی مہلک بیماریوں کے شکار مریضوں کے ہسپتال میں داخلے کا خطرہ دیگر آلودگی کے ذرائع کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ پھیپھڑوں کے کینسر (Lung Cancer) میں مبتلا مریضوں میں اس دھوئیں کے طویل مدتی اثرات کے باعث بقا اور زندگی کی شرح میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔ محققین نے واضح کیا کہ فضائی آلودگی کے نقصان کا انحصار صرف اس کی مقدار پر نہیں بلکہ اس کے ذریعہ (Source) پر بھی ہوتا ہے۔ امریکہ بھر میں کروڑوں افراد تک اس دھوئیں کی رسائی کے باعث عوامی صحت کے ماہرین میں شدید تشویش لہر دوڑ گئی ہے۔