LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے اسحاق ڈار سے برازیلی وزیر خارجہ کا رابطہ، عالمی امن پر تبادلہ خیال فضل الرحمان کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان شہباز شریف نے پنشنرز کیلئے ’پروف آف لائف‘ کے جدید نظام کا افتتاح کر دیا پیپلزپارٹی کے وفد کی سپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات, قانون سازی پر تبادلہ خیال وزیراعظم سے شامی وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن

چینی سائنس دانوں نے مرغی کا متبادل گوشت تیار کر لیا!

Web Desk

11 December 2025

ماضی کے مطالعوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مویشی پالنا عالمی سطح پر تقریبا 14 فی صد گرین ہاؤس گیس کے اخراج کا سبب ہوتا ہے، اس کے علاوہ اس حوالے سے بڑے رقبے پر زمینیں اور وسیع مقدار میں پانی کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔

جبکہ خمیر اور فنگئی سے تجربہ گاہ میں بنائے گئے پروٹینز گوشت کے ممکنہ متبادل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ تاہم، ان کو صارف دوست اشیاء میں ڈھالنا ہے ایک چیلنج رہا ہے۔

ان آپشنز میں ’فیوسیریم وینینیٹم‘ نامی فنگس سے حاصل ہونے والے پروٹین اپنے قدرتی ساخت اور ذائقے کی وجہ سے پولٹری کے گوشت سے مشابہت رکھتے ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق اگرچہ یہ فنگس گوشت کو امریکا، برطانیہ اور چین جیسے متعدد ممالک میں بطور غذا استعمال کی اجازت دی جا چکی ہے، لیکن اس کو قلیل مقدار میں بنانے کے لیے کثیر وسائل کی ضرورت ہے۔

چینی سائنس دانوں نے اس فنگس میں کوئی بیرونی ڈی این اے شامل کرنے کے بجائے اس کے جینوم میں تبدیلی کی اور اس کی پروٹین کی پیداوار اور ہضم ہونے کی صلاحیت کو بہتر کیا۔