LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز 27 پی ٹی آئی کی پولیس چھاپوں اور گرفتاریوں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں درخواست دائر لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا

چینی سائنس دانوں نے مرغی کا متبادل گوشت تیار کر لیا!

Web Desk

11 December 2025

ماضی کے مطالعوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مویشی پالنا عالمی سطح پر تقریبا 14 فی صد گرین ہاؤس گیس کے اخراج کا سبب ہوتا ہے، اس کے علاوہ اس حوالے سے بڑے رقبے پر زمینیں اور وسیع مقدار میں پانی کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔

جبکہ خمیر اور فنگئی سے تجربہ گاہ میں بنائے گئے پروٹینز گوشت کے ممکنہ متبادل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ تاہم، ان کو صارف دوست اشیاء میں ڈھالنا ہے ایک چیلنج رہا ہے۔

ان آپشنز میں ’فیوسیریم وینینیٹم‘ نامی فنگس سے حاصل ہونے والے پروٹین اپنے قدرتی ساخت اور ذائقے کی وجہ سے پولٹری کے گوشت سے مشابہت رکھتے ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق اگرچہ یہ فنگس گوشت کو امریکا، برطانیہ اور چین جیسے متعدد ممالک میں بطور غذا استعمال کی اجازت دی جا چکی ہے، لیکن اس کو قلیل مقدار میں بنانے کے لیے کثیر وسائل کی ضرورت ہے۔

چینی سائنس دانوں نے اس فنگس میں کوئی بیرونی ڈی این اے شامل کرنے کے بجائے اس کے جینوم میں تبدیلی کی اور اس کی پروٹین کی پیداوار اور ہضم ہونے کی صلاحیت کو بہتر کیا۔