LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جسے مردِ آہن بنا کر پیش کیا گیا، آج اسی کی جماعت ہسپتال منتقلی کی فریاد کر رہی: وزیر دفاع آن لائن فراڈ کیس: 284 غیر ملکیوں کی حراست کیلئے نجی پلازہ دوبارہ سب جیل قرار حکومت اور اپوزیشن میں معقول دوریاں ہونی چاہئیں، مخالفت برائے مخالفت نہیں: مولانا فضل الرحمان وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کے پاکستان آفس کا افتتاح کر دیا سپریم کورٹ کا بانی کے علاج سے متعلق تحریری فیصلہ جاری، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، ایران کا شدید ردعمل پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، کاروبار کا منفی رجحان رہا پاکستان اور روس کے درمیان کلیدی شعبوں میں تعاون اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق سپریم کورٹ کا فیصلہ شاندار اور تاریخی، سیاسی بے چینی ختم ہوگی: شیخ رشید عدالتی حکم پر مکمل عمل، بانی کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے: پی ٹی آئی اسرائیل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ کر رہا ہے: عباس عراقچی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم نے 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، عطا تارڑ پیٹرول مزید مہنگا ہونے پر جماعت اسلامی کی کل ملک گیر ہڑتال کی دھمکی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیاں مکمل، ریکارڈ الیکشن کمیشن کو ارسال سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم

16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا آغاز

Web Desk

10 December 2025

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آسٹریلیا میں نئی قانون سازی کے تحت 10 بڑی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 16 سال سے کم عمر بچوں کی رسائی فوری طور پر بند کر دیں، بصورتِ دیگر 4 کروڑ 95 لاکھ آسٹریلین ڈالر تک کے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پابندی پر ٹیکنالوجی کمپنیوں اور آزادیِ اظہار کے حامی حلقوں نے تنقید کی ہے تاہم والدین اور بچوں کے حقوق کے کارکنوں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔دیگر ممالک بھی آسٹریلیا کے اس فیصلے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ بچوں کی ذہنی صحت اور سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں پر سوشل میڈیا کے دباؤ کو کم کرنا ہے، انہوں نے بچوں کو مشورہ دیا کہ آنے والی تعطیلات میں فون پر سکرولنگ کے بجائے کوئی نیا کھیل یا ساز سیکھیں یا وہ کتاب پڑھیں جو کافی عرصے سے آپ کی الماری میں رکھی ہے اور خاندان کے ساتھ وقت گزاریں۔ماہرین کے مطابق آسٹریلیا کا یہ اقدام دیگر ممالک کیلئے بھی مثال بن سکتا ہے، کرٹن یونیورسٹی کے پروفیسر ٹاما لیور نے کہا کہ آسٹریلیا کا فیصلہ ٹیک کمپنیوں کے خلاف ایک ”اہم قدم“ ہے، اور ممکن ہے کہ مزید ممالک بھی ایسے اقدامات کریں۔حکومت کے مطابق ابتدائی فہرست میں شامل دس پلیٹ فارمز وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتے ہیں کیونکہ بچے نئی ایپس کی طرف منتقل ہوتے رہتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر کمپنیوں نے پابندی پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے اور وہ عمر کا تعین آن لائن سرگرمی، سیلفی یا شناختی دستاویزات کے ذریعے کریں گی۔البتہ ایلون مسک کے پلیٹ فارم ”ایکس“ نے اس پابندی کو آزادیِ اظہار کے خلاف قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے جبکہ پابندی کے خلاف ہائی کورٹ میں چیلنج بھی دائر کیا گیا ہے۔