LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کی نجکاری اہداف مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت: PIA کی فنانشل کلوزنگ مکمل آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کا الزام، وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہونے کا دعویٰ,شرجیل میمن بانی پی ٹی آئی سے کل جیل میں وکلا کی ملاقات کا دن، 6 نام جیل حکام کو ارسال پاک ایران تجارتی تعاون میں اہم پیشرفت، اعلیٰ سطح کا ایرانی وفد آج اسلام آباد پہنچے گا پٹرول پمپس پر کارڈ ادائیگی، سٹیٹ بینک نے بڑی رعایت دے دی شکست خوردہ جماعتیں نتائج تسلیم کرنے کے بجائے انتشار کی سیاست کر رہی ہیں:عظمیٰ بخاری گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا 8 اگست سے غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان سرکاری حج اسکیم 2027 کی درخواستوں کی وصولی رواں ہفتے شروع ہونے کا امکان پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول پر، 5 اگست تک بارش کی پیشگوئی ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی وزیراعظم کی آزاد کشمیر الیکشن میں برتری پر نوازشریف، کامیاب امیدواروں کو مبارکباد خلیجی ممالک ٹرمپ کی ایران پالیسی سے سخت پریشان اور مایوس ہیں: امریکی اخبار آزاد کشمیر الیکشن کا دوسرا مرحلہ بھی ن لیگ کے نام، 14 سیٹیں جیت لیں، پیپلزپارٹی 5 پر کامیاب تربیلا ڈیم کے سپل ویز کھول دیے گئے: دریائے سندھ میں 245,000 کیوسِک تک بہاؤ کا امکان، نان و نفقے کا تعین والد کی مالی استطاعت کے مطابق ہوگا: سپریم کورٹ

کینسر کے پھیلاؤ کی پیشگوئی کرنے والا نیا اے آئی نظام تیار

Web Desk

11 March 2026

سائنس دانوں نے ایک نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام تیار کیا ہے جو کینسر کے جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلنے کے امکانات کی پیشگوئی کر سکتا ہے۔

’مینگروو جی ایس‘ (Mangrove Gene Signatures) نامی یہ اے آئی سسٹم جینز کی پیچیدہ سرگرمیوں کے نمونوں کا تجزیہ کر کے اندازہ لگاتا ہے کہ کسی ٹیومر کے جسم کے دیگر حصوں تک پھیلنے کے امکانات کتنے ہیں۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے Cell Reports میں شائع ہوئی ہے اور مستقبل میں ڈاکٹروں کو مریضوں میں میٹاسٹیسس یعنی کینسر کے پھیلاؤ کے خطرے کا اندازہ لگانے میں مدد دے سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق کینسر کے حوالے سے ایک بڑی سائنسی پہیلی یہ رہی ہے کہ کچھ ٹیومر پھیلتے نہیں جبکہ بعض تیزی سے جسم کے دوسرے حصوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ خاص طور پر بڑی آنت، چھاتی اور پھیپھڑوں کے کینسر میں بیماری کے پھیل جانے کے بعد موت کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

اس تحقیق میں اہم کردار ادا کرنے والے ایریل روئز آئی آلتابا کے مطابق کینسر کو صرف بے ترتیب خلیاتی افزائش سمجھنا درست نہیں۔ ان کے مطابق یہ دراصل حیاتیاتی پروگراموں کا ایک مجموعہ ہے جو عموماً جسم کی ابتدائی نشوونما کے دوران فعال ہوتے ہیں لیکن بعد میں غلط وقت یا جگہ پر دوبارہ سرگرم ہو جاتے ہیں۔

محققین نے اس عمل کو سمجھنے کے لیے بڑی آنت کے ٹیومرز سے حاصل کیے گئے کلون شدہ خلیات کا مطالعہ کیا اور سینکڑوں جینز کی سرگرمیوں کا تجزیہ کیا۔ اس تحقیق کے دوران جینز کی کچھ مخصوص سرگرمیاں سامنے آئیں جو خلیات کی کینسر پھیلانے کی صلاحیت سے مضبوط تعلق رکھتی تھیں۔

انہی نتائج کی بنیاد پر سائنس دانوں نے ’مینگروو جین سگنیچرز‘ تیار کیے، جو ایک اے آئی پر مبنی نظام ہے اور بیک وقت درجنوں بلکہ سینکڑوں جینیاتی سگنیچرز کا تجزیہ کر کے کینسر کے پھیلاؤ کے خطرے کی پیشگوئی کر سکتا ہے۔