LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ختم خاتون کو دوستی کی پیشکش، ایس ایس پی ایسٹ نے ویڈیو کا نوٹس لے لیا ایران سعودی عرب اور حوثیوں میں جنگ ختم کرانا چاہتا ہے: محسن رضائی افغان حکومت صرف مذمت نہیں، ٹھوس کارروائی بھی کرے: وزارت اطلاعات احتجاج کے حوالے سے ہماری پالیسی کلیئر، کسی صورت اجازت نہیں دیں گے: عطا تارڑ حوثی مفتی کا حرمین شریفین پر حملے کا اعلان تشویشناک ہے: طاہر اشرفی نواز شریف کا 16 سال بعد ناران کا دورہ، مقامی عہدیداروں سے ملاقات پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کا لانگ مارچ بے وقت کی راگنی: رانا تنویر حسین کل کی ریلی کرپٹ ترین حکومت کے خلاف علم بغاوت ہو گی: فاروق ستار خدمت کا جذبہ جاری رہے گا، ہم جھکنے، بھاگنے اور بکنے والے نہیں: حنیف عباسی خوردنی تیل، گھی کی ترسیل میں گٹھ جوڑ، آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن پر 6 کروڑ جرمانہ پاکستان کو فساد اور لانگ مارچ نہیں، امن و استحکام کی ضرورت ہے: احسن اقبال وزیراعظم فیول ریلیف سکیم کی رجسٹریشن مفت، سابقہ پابندی ختم کر دی: شزا فاطمہ ایم ڈی کیٹ 2026 کا انعقاد آ ج ہو گا، امتحان کی تیاریاں مکمل 27 ستمبر کو پتا چلے گا ریاست اپنی رِٹ کیسے قائم کرتی ہے: طلال چودھری

کینسر کے پھیلاؤ کی پیشگوئی کرنے والا نیا اے آئی نظام تیار

Web Desk

11 March 2026

سائنس دانوں نے ایک نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام تیار کیا ہے جو کینسر کے جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلنے کے امکانات کی پیشگوئی کر سکتا ہے۔

’مینگروو جی ایس‘ (Mangrove Gene Signatures) نامی یہ اے آئی سسٹم جینز کی پیچیدہ سرگرمیوں کے نمونوں کا تجزیہ کر کے اندازہ لگاتا ہے کہ کسی ٹیومر کے جسم کے دیگر حصوں تک پھیلنے کے امکانات کتنے ہیں۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے Cell Reports میں شائع ہوئی ہے اور مستقبل میں ڈاکٹروں کو مریضوں میں میٹاسٹیسس یعنی کینسر کے پھیلاؤ کے خطرے کا اندازہ لگانے میں مدد دے سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق کینسر کے حوالے سے ایک بڑی سائنسی پہیلی یہ رہی ہے کہ کچھ ٹیومر پھیلتے نہیں جبکہ بعض تیزی سے جسم کے دوسرے حصوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ خاص طور پر بڑی آنت، چھاتی اور پھیپھڑوں کے کینسر میں بیماری کے پھیل جانے کے بعد موت کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

اس تحقیق میں اہم کردار ادا کرنے والے ایریل روئز آئی آلتابا کے مطابق کینسر کو صرف بے ترتیب خلیاتی افزائش سمجھنا درست نہیں۔ ان کے مطابق یہ دراصل حیاتیاتی پروگراموں کا ایک مجموعہ ہے جو عموماً جسم کی ابتدائی نشوونما کے دوران فعال ہوتے ہیں لیکن بعد میں غلط وقت یا جگہ پر دوبارہ سرگرم ہو جاتے ہیں۔

محققین نے اس عمل کو سمجھنے کے لیے بڑی آنت کے ٹیومرز سے حاصل کیے گئے کلون شدہ خلیات کا مطالعہ کیا اور سینکڑوں جینز کی سرگرمیوں کا تجزیہ کیا۔ اس تحقیق کے دوران جینز کی کچھ مخصوص سرگرمیاں سامنے آئیں جو خلیات کی کینسر پھیلانے کی صلاحیت سے مضبوط تعلق رکھتی تھیں۔

انہی نتائج کی بنیاد پر سائنس دانوں نے ’مینگروو جین سگنیچرز‘ تیار کیے، جو ایک اے آئی پر مبنی نظام ہے اور بیک وقت درجنوں بلکہ سینکڑوں جینیاتی سگنیچرز کا تجزیہ کر کے کینسر کے پھیلاؤ کے خطرے کی پیشگوئی کر سکتا ہے۔