LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی ٹرین مارچ، عوامی حقوق کی تحریک جاری ر ہے گی: حافظ نعیم الرحمان ماسکو کی جانب آنے والے 338 ڈرونز تباہ، آئل ریفائنری کی تنصیب کو نقصان باقر قالیباف کی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا کو پیغامات پہنچانے کی تصدیق بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی علیمہ خان کی گرفتاری کی شدید مذمت؛ فوری رہائی کا مطالبہ حکومت کا آج سے بجلی کی خرید و فروخت سے دستبرداری کا اعلان عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ 3 ایم پی او کے تحت گرفتار خاران میں دہشت گردوں کا مسافر گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ، مزدور زخمی وزیر داخلہ محسن نقوی کی شہید کیپٹن حمزہ اکرم کے گھر آمد، اہلخانہ سے تعزیت صاف ستھرا پنجاب صحت مند اور خوشحال مستقبل کی بنیاد ہے، مریم نواز جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کیلئے اسحاق ڈار نیویارک روانہ ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ شروع، ایک لاکھ 38 ہزار 158 امیدوار شریک کوئٹہ میں سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کا مجسمہ دوبارہ نصب آج کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن سے تاریخی مارچ کا آغاز ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حوثی ملیشیا کا ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا

نئے انتظامی یونٹس بننے سے کوئی قتل و غارت نہیں ہوگی، مصطفیٰ کمال

Web Desk

19 September 2026

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے نئے انتظامی یونٹس کی مخالفت کرنے والوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے کوئی قتل و غارت گری یا ہنگامہ آرائی نہیں ہو گی، کیونکہ ہم پاکستان کو توڑنے نہیں بلکہ جوڑنے کی بات کر رہے ہیں۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کراچی اور حیدرآباد سمیت دیگر شہری علاقوں میں مختلف زبانیں بولنے والے تمام طبقے بھائی چارے کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ انہوں نے ان خدشات کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا کہ نئے انتظامی یونٹ بننے کی صورت میں اردو بولنے والے اور سندھی بھائیوں کے درمیان کوئی تصادم ہو گا۔

مصطفیٰ کمال نے سندھ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ۱۸ سالہ دورِ حکومت میں کراچی کے نوجوانوں کو ایک چپڑاسی کی ملازمت تک نہیں دی گئی اور کوٹا سسٹم کے نام پر ان کی حق تلفی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے نوجوان روزمرہ سٹریٹ کرائمز، موبائل چھیننے کی وارداتوں اور ٹریفک حادثات میں اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ کراچی کی زبوں حالی کا ذکر کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ شہریوں کو پینے کا صاف پانی، سیوریج کا نظام، بجلی، گیس اور بہتر سڑکیں میسر نہیں ہیں اور ‘کے فور’ (K-IV) جیسا اہم آبی منصوبہ طویل عرصے سے التوا کا شکار ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں سیاسی مفادات کے لیے سندھی، مہاجر، پختون اور بلوچ بھائیوں کو آپس میں لڑوانے کی نفرت انگیز سیاست کی گئی تاکہ لوگ اپنی جان و مال کی فکر میں مبتلا رہیں اور روزگار، تعلیم و صحت جیسے بنیادی حقوق بھول جائیں۔ مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ نئے انتظامی یونٹس کا مطالبات کسی مخصوص قوم یا زبان کے خلاف نہیں بلکہ عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات اور انصاف فراہم کرنے کے لیے ہے، اور اگر ملک و قوم کو ضرورت پڑی تو ایم کیو ایم کے کارکن ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔