جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ختم
Web Desk
20 September 2026
جماعتِ اسلامی اور حکومتی وفد کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور بغیر کسی حتمی نتیجے کے ختم ہو گیا ہے۔ حکومتی وفد میں وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا ثناء اللہ اور صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق شامل تھے، جبکہ جماعتِ اسلامی کی نمائندگی نائب امیر لیاقت بلوچ، قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، ضیاء الدین انصاری اور شکیل احمد ترابی پر مشتمل وفد نے کی۔ نشست کے دوران حکومتی وفد نے سکیورٹی خدشات اور آئی ایم ایف کے متوقع دورے کا حوالہ دیتے ہوئے جماعتِ اسلامی سے اعلان کردہ لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ حکومت نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ عوام کو جلد غیر معمولی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب، جماعتِ اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے حکومتی درخواست کو مشروط کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک بجلی کے بلوں پر عائد لیوی کا خاتمہ اور دیگر عوامی مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہوتا، لانگ مارچ کا انعقاد لازمی رہے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری اور عملی اقدامات نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ کار مزید بڑھایا جائے گا۔ طے شدہ شیڈول کے مطابق امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں “سپر لانگ مارچ” کا باقاعدہ آغاز کل کراچی سے کیا جائے گا۔
متعلقہ عنوانات
عوام کو ریلیف دینے کیلئے پٹرولیم لیوی کو مکمل ختم کیا جائے: حافظ نعیم
21 September 2026
اسلام آباد پر دھاوا بولنے والوں کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا: محسن نقوی
21 September 2026
پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان6 کروڑ 50 لاکھ یورو کے 3 اہم ترقیاتی معاہدوں پر دستخط
21 September 2026
بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کی ایم پی او کے تحت نظر بندی کے احکامات لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
21 September 2026
عمران خان کی بہنوں اور بچوں کی حراست غیر قانونی ہے، شدید مذمت کرتے ہیں: شیخ وقاص اکرم
21 September 2026
سومنات کا حوالہ بار بار آنے کے لیے استعمال کیا، ہم پرامن رہیں گے: جنید اکبر کی وضاحت
21 September 2026
ایران رویہ بدلے تو مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے: مائیک والٹز
21 September 2026
علیمہ کے بعد نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی 30 روز کیلئے نظر بند
21 September 2026