LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
گورنر راج یا ایمرجنسی کی افواہوں پر گہری تشویش ہے، تمام تر تحفظات کے باوجود مذاکرات کے لیے تیار ہیں: بیرسٹر گوہر جمہوری حکومت کبھی فاشسٹ نہیں ہوتی، ملک کو بحران سے نکالنے کی صلاحیت صرف بانی چیئرمین میں ہے: علامہ راجہ ناصر عباس افغانستان میں 36 سے زائد دہشت گرد گروہ موجود ہیں، ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی روکی جائے: ترجمان دفتر خارجہ غلطیاں ٹھیک کیے بغیر ترقی ممکن نہیں، معاشی چیلنجز کو اقدامات کی ضرورت ہے: وزیراعظم میر رضا کیس: انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع منظور وفاقی آئینی عدالت کے رولز جاری، اہم قانونی معاملات کی وضاحت روس جوہری حملے کی دھمکیاں دینا بند کرے، نیٹو لانگ مارچ سے کبھی کوئی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، مصطفی کمال معاشی ترقی میں سرمایہ کاروں کی شراکت ڈھائی سال میں دوگنا سے زائد بڑھ چکی ہے: وزیر خزانہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا فی الحال کوئی قانون موجود نہیں: پی ٹی اے کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں جواب انڈونیشیا کی جیل میں ڈبل بیڈز کمرے، ٹی وی اور سوئمنگ پول حکومت بزرگ شہریوں کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات کر رہی ہے: مریم نواز محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، اپ گریڈیشن منصوبے مکمل کرنے کی ہدایت کراچی: زیر تعمیر پل کی شٹرنگ اچانک گر گئی، ایک شخص جاں بحق افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف فضائی کارروائی، 22 ہلاک، ٹھکانے تباہ

ابرار الحق نے گانے ’نچ پنجابن‘ کی تخلیق کی دلچسپ کہانی سنا دی

Web Desk

8 July 2026

معروف پاکستانی گلوکار ابرار الحق نے اپنے مقبول ترین اور شہرہ آفاق گانے ‘نچ پنجابن’ کی تخلیق کے پیچھے چھپی دلچسپ کہانی سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا ہے کہ اس کا مشہورِ زمانہ جملہ “گانے نوں دے دے پنجابی ٹچ” کس طرح وجود میں آیا۔ ایک یوٹیوب چینل کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ جب وہ گانے کے ابتدائی بول لکھ رہے تھے، تو انہوں نے اپنے کزن ٹیپو سے اس پر رائے مانگی۔ کزن نے تبصرہ کیا کہ گانا اچھا ہے لیکن اس میں “پنجابی ٹچ” محسوس نہیں ہو رہا، جس پر یہ جملہ ان کے ذہن میں بیٹھ گیا اور انہوں نے فوری طور پر اسے گانے کا حصہ بنا دیا، جس نے بعد میں اس گانے کو ایک نئی پہچان دی۔ واضح رہے کہ 1995 میں اپنے پہلے البم ‘بلو دے گھر’ سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے ابرار الحق کو 2000ء کی دہائی کے آغاز میں ‘نچ پنجابن’ پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا، جہاں لفظ ‘پنجابن’ کے استعمال پر اعتراض اٹھایا گیا، جس کے بعد انہوں نے اس گانے کو نئے انداز میں ‘نچ مجاجن’ کے نام سے دوبارہ ریکارڈ کیا۔