LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہسپتال بنا کر علاج کرنا ہیلتھ کیئر نہیں، انسانوں کو بیماریوں سے بچانا حقیقی صحت ہے۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 21 نشستوں پر الیکشن 02 اگست کو: 12 لاکھ ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کریں گے کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ جنرل عامر رضا کو نشان امتیاز (ملٹری) عطا کرنے کی منظوری وزیراعظم سے آذربائیجان کے سفیر کی الوداعی ملاقات، خضر فرہادوف کی خدمات کو سراہا قطری ایل این جی جہاز نے آبنائے ہرمز عبور کر لی، آج پاکستانی حدود میں داخل ہوگا محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس، پی ایس ایل سیزن کی تیاریوں پر گفتگو دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کیلئے قاہرہ میں جلد اہم اجلاس متوقع پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، ایک لاکھ 76 ہزار پوائنٹس کی حد بحال قائداعظم محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کی آج سالگرہ منائی جا رہی ہے ایران کی قشم جزیرے پر امریکی حملے کی شدید مذمت کوئٹہ کے نواحی علاقے میں کوئلے کی کان میں دھماکا، 32 کان کن جاں بحق پاسداران انقلاب کا کویت میں امریکا کی علی السالم ایئربیس پر حملے کا دعویٰ علیم خان صرف بیان نہ دیں، استعفیٰ دے کر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھیں: سوشل میڈیا صارفین کا شدید ردِعمل امریکا نے چین، بھارت، روس اور ایران کے اداروں پر نئی پابندیاں لگا دیں

ابرار الحق نے گانے ’نچ پنجابن‘ کی تخلیق کی دلچسپ کہانی سنا دی

Web Desk

8 July 2026

معروف پاکستانی گلوکار ابرار الحق نے اپنے مقبول ترین اور شہرہ آفاق گانے ‘نچ پنجابن’ کی تخلیق کے پیچھے چھپی دلچسپ کہانی سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا ہے کہ اس کا مشہورِ زمانہ جملہ “گانے نوں دے دے پنجابی ٹچ” کس طرح وجود میں آیا۔ ایک یوٹیوب چینل کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ جب وہ گانے کے ابتدائی بول لکھ رہے تھے، تو انہوں نے اپنے کزن ٹیپو سے اس پر رائے مانگی۔ کزن نے تبصرہ کیا کہ گانا اچھا ہے لیکن اس میں “پنجابی ٹچ” محسوس نہیں ہو رہا، جس پر یہ جملہ ان کے ذہن میں بیٹھ گیا اور انہوں نے فوری طور پر اسے گانے کا حصہ بنا دیا، جس نے بعد میں اس گانے کو ایک نئی پہچان دی۔ واضح رہے کہ 1995 میں اپنے پہلے البم ‘بلو دے گھر’ سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے ابرار الحق کو 2000ء کی دہائی کے آغاز میں ‘نچ پنجابن’ پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا، جہاں لفظ ‘پنجابن’ کے استعمال پر اعتراض اٹھایا گیا، جس کے بعد انہوں نے اس گانے کو نئے انداز میں ‘نچ مجاجن’ کے نام سے دوبارہ ریکارڈ کیا۔