وفاقی آئینی عدالت کے رولز جاری، اہم قانونی معاملات کی وضاحت
Web Desk
1 October 2026
وفاقی آئینی عدالت کے 126 صفحات پر مشتمل جامع رولز جاری کر دیے گئے ہیں، جن میں توہین عدالت، نظرثانی درخواستوں، سزائے موت، التوا، آرٹیکل 63A کے تحت اپیلوں، زبانی دلائل، بینچوں کی تشکیل اور وکلا سے متعلق باضابطہ قواعد وضع کیے گئے ہیں۔ نئے رولز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کو توہین عدالت کا ازخود نوٹس لینے اور کسی بھی شخص کی درخواست پر کارروائی کرنے کا اختیار ہوگا، جبکہ بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواست یا التوا پر کم از کم 25 ہزار روپے تک کے اخراجات عائد کیے جا سکیں گے اور سماعت سے قبل 50 ہزار روپے زر ضمانت جمع کرانا ہوگا۔ ضابطے کے تحت سزائے موت کی نظرثانی درخواست دائر ہونے پر فیصلے تک پھانسی پر عملدرآمد خودکار طور پر معطل رہے گا۔ اس کے علاوہ ہر مقدمے میں فریقین کے لیے زبانی دلائل کی مدت عام طور پر 10 منٹ (اہم قانونی سوال پر 30 منٹ) مقرر کی گئی ہے، ہر مقدمہ کم از کم دو ججز کا بینچ سنے گا، اور آرٹیکل 63A کے تحت الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں 30 دن کے اندر دائر ہو کر 90 روز میں نمٹائی جائیں گی۔
متعلقہ عنوانات
افغانستان میں 36 سے زائد دہشت گرد گروہ موجود ہیں، ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی روکی جائے: ترجمان دفتر خارجہ
1 October 2026
ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں کمی
1 October 2026
قومی بچت کی اسکیموں پر شرح منافع میں اضافہ، نوٹیفکیشن جاری
1 October 2026
غلطیاں ٹھیک کیے بغیر ترقی ممکن نہیں، معاشی چیلنجز کو اقدامات کی ضرورت ہے: وزیراعظم
1 October 2026
میر رضا کیس: انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع منظور
1 October 2026
روس جوہری حملے کی دھمکیاں دینا بند کرے، نیٹو
1 October 2026
لانگ مارچ سے کبھی کوئی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، مصطفی کمال
1 October 2026
معاشی ترقی میں سرمایہ کاروں کی شراکت ڈھائی سال میں دوگنا سے زائد بڑھ چکی ہے: وزیر خزانہ
1 October 2026