وفاقی آئینی عدالت کے رولز جاری، اہم قانونی معاملات کی وضاحت
Web Desk
1 October 2026
وفاقی آئینی عدالت کے 126 صفحات پر مشتمل جامع رولز جاری کر دیے گئے ہیں، جن میں توہین عدالت، نظرثانی درخواستوں، سزائے موت، التوا، آرٹیکل 63A کے تحت اپیلوں، زبانی دلائل، بینچوں کی تشکیل اور وکلا سے متعلق باضابطہ قواعد وضع کیے گئے ہیں۔ نئے رولز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کو توہین عدالت کا ازخود نوٹس لینے اور کسی بھی شخص کی درخواست پر کارروائی کرنے کا اختیار ہوگا، جبکہ بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواست یا التوا پر کم از کم 25 ہزار روپے تک کے اخراجات عائد کیے جا سکیں گے اور سماعت سے قبل 50 ہزار روپے زر ضمانت جمع کرانا ہوگا۔ ضابطے کے تحت سزائے موت کی نظرثانی درخواست دائر ہونے پر فیصلے تک پھانسی پر عملدرآمد خودکار طور پر معطل رہے گا۔ اس کے علاوہ ہر مقدمے میں فریقین کے لیے زبانی دلائل کی مدت عام طور پر 10 منٹ (اہم قانونی سوال پر 30 منٹ) مقرر کی گئی ہے، ہر مقدمہ کم از کم دو ججز کا بینچ سنے گا، اور آرٹیکل 63A کے تحت الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں 30 دن کے اندر دائر ہو کر 90 روز میں نمٹائی جائیں گی۔
متعلقہ عنوانات
جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ نومبر کے وسط میں ہوگا: حافظ نعیم
28 October 2026
اسرائیلی انتخابات کے بعد حکومت سازی کی دوڑ، نیتن یاہو اور اپوزیشن کے متضاد دعوے
28 October 2026
جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی: 26 ویں و 27 ویں آئینی ترامیم سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوئی، متن
28 October 2026
ایران کے جوہری پروگرام پر تنازع کا حل صرف سفارت کاری ہے: چین
28 October 2026
نو ماہ میں 5,143 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 2,410 دہشت گرد ہلاک اور 3,518 گرفتار: محسن نقوی کی ایوان میں رپورٹ
28 October 2026
خیبرپختونخوا پولیس کا ڈرون اور اینٹی ڈرون نظام سیف سٹی سے منسلک
28 October 2026
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت رجحان
28 October 2026
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران
28 October 2026