LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس جوہری حملے کی دھمکیاں دینا بند کرے، نیٹو لانگ مارچ سے کبھی کوئی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، مصطفی کمال معاشی ترقی میں سرمایہ کاروں کی شراکت ڈھائی سال میں دوگنا سے زائد بڑھ چکی ہے: وزیر خزانہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا فی الحال کوئی قانون موجود نہیں: پی ٹی اے کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں جواب انڈونیشیا کی جیل میں ڈبل بیڈز کمرے، ٹی وی اور سوئمنگ پول حکومت بزرگ شہریوں کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات کر رہی ہے: مریم نواز محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، اپ گریڈیشن منصوبے مکمل کرنے کی ہدایت کراچی: زیر تعمیر پل کی شٹرنگ اچانک گر گئی، ایک شخص جاں بحق افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف فضائی کارروائی، 22 ہلاک، ٹھکانے تباہ خانیوال میں بیٹھے پاکستانی نوجوان نے امریکی ڈاکخانے کو 126 ملین ڈالر کا چونا لگا دیا ایران میں مہنگائی کی شرح 83 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے روسی جوہری دھمکیوں کو مسترد کر دیا یوکرین کا روس کے نئے سیٹلائٹ نیٹ ورک کی تیاری میں مدد دینے والوں پر پابندیوں کا مطالبہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت ملوث تھا: کینیڈین وزیراعظم فرانس کا سعودی توانائی تنصیبات کے تحفظ کیلئے فوجی دستے تعینات کرنے کا فیصلہ

روس جوہری حملے کی دھمکیاں دینا بند کرے، نیٹو

Web Desk

1 October 2026

نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے۔ یہ بیان روس کی جانب سے موصول ہونے والے اس سفارتی پیغام کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ماسکو نے خبردار کیا تھا کہ اگر نیٹو نے کالینن گراڈ (جو پولینڈ اور لتھوانیا کے درمیان واقع روس کا ایک عسکری خطہ ہے) کو باقی حصے سے الگ کرنے کی کوشش کی، تو وہ جوہری ہتھیاروں سمیت تمام دستیاب ذرائع استعمال کرے گا۔ روس کا دعویٰ تھا کہ اسے کالینن گراڈ کی فضائی اور بحری ناکہ بندی کی تیاریوں کی اطلاعات ملی ہیں، تاہم نیٹو نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کی سرگرمیاں روسی سرزمین کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ مارک روٹے نے اس بات پر زور دیا کہ نیٹو ایک دفاعی اتحاد ہے، جوہری دھمکیاں دینا غیر ضروری ہے، اور فی الحال روس کی جانب سے نیٹو کی سرزمین پر کسی فوری حملے کا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔