LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر انتخابات: ملتان میں دوسرے مرحلے کی پولنگ کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل، کانٹے دار مقابلے کا امکان شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 5 دہشت گرد ہلاک، میجر شہید ہر گھرغریب، معیشت بدترین بحران کا شکار ہے: شاہد خاقان عباسی حکومت پر برس پڑے عرفان صادق تارڑ پراسکیوٹر جنرل پنجاب تعینات افواجِ پاکستان اور پیپلز لبریشن آرمی حقیقی شراکت دار، امن و استحکام کیلئے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل امن منصوبے پر مثبت پیش رفت: 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے: دفتر خارجہ سندھ میں نئے صوبے کی ضرورت نہیں، یہ پنجاب کی عوام کا مطالبہ ہے، سعید غنی خطے کے ممالک امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کریں: ایرانی فوج پنجاب میں ماتحت عدلیہ کے ججز پر مونیٹائزیشن پالیسی نافذ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: 21 نشستوں پر پولنگ کل، 12 لاکھ سے زائد ووٹرز شامل پیٹرول پر لیوی بھتہ ٹیکس، فارم 45 کی بنیاد پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے,حافظ نعیم الرحمٰن امریکا اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ میں ایران کامیاب رہا: باقر قالیباف وزیراعلیٰ پنجاب کی امریکی اعلیٰ سطحی کاروباری وفد کو سرمایہ کاری کی دعوت کشمیر کی حکومت و مستقبل کے فیصلے کشمیری عوام خود کریں: بلاول بھٹو زرداری سورینج کان حادثہ: 45 گھنٹے بعد ریسکیو آپریشن مکمل، 34 لاشیں نکال لی گئیں

کالی، سبز یا دودھ والی چائے: انسانی صحت کیلئے کونسی مفید؟

Web Desk

24 December 2025

چائے پاکستان میں روزمرہ زندگی کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔ دن کی شروعات اکثر دودھ والی چائے سے ہوتی ہے، جبکہ کام کے بعد بہت سے افراد سبز چائے پینا پسند کرتے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال عام ہے کہ روزانہ استعمال کے لیے کون سی چائے زیادہ صحت بخش ہے؟ ماہرین غذائیت نے اس حوالے سے مختلف اقسام کی چائے کے فوائد اور احتیاطی پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔

ماہرین کے مطابق دودھ والی چائے، جو کالی چائے، دودھ اور چینی سے تیار کی جاتی ہے، گھروں میں سب سے زیادہ پی جاتی ہے اور ذہنی سکون کا باعث بنتی ہے۔ تاہم تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ دودھ شامل کرنے سے چائے میں موجود بعض قدرتی مفید اجزا کے اثرات کم ہو سکتے ہیں۔ ماہر غذائیت کا کہنا ہے کہ اگر کسی فرد کو دودھ سے الرجی نہ ہو تو دودھ والی چائے نقصان دہ نہیں، کیونکہ دودھ میں کیلشیم اور وٹامن ڈی جیسے اہم اجزا پائے جاتے ہیں۔ البتہ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ دودھ والی چائے کھانے کے ساتھ نہیں بلکہ کھانوں کے درمیان پینی چاہیے۔

کالی چائے عموماً بغیر دودھ یا بہت کم دودھ کے ساتھ پی جاتی ہے اور اس کا ذائقہ نسبتاً تیز ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کالی چائے غذائی اعتبار سے دودھ والی اور سبز چائے کے درمیان متوازن سمجھی جاتی ہے۔ اس میں موجود اجزا خون کی روانی بہتر بنانے اور دل کی صحت کے لیے مفید ہو سکتے ہیں، تاہم اسے بھی کھانے کے ساتھ پینے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ یہ غذا کے اجزا کے جذب میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

سبز چائے کم عمل سے گزرتی ہے اور عموماً بغیر دودھ اور چینی کے پی جاتی ہے، جس سے اس کے قدرتی فوائد برقرار رہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سبز چائے مفید اجزا سے بھرپور اور کیفین کی مقدار نسبتاً کم رکھتی ہے، اسی لیے اسے کھانے کے ساتھ بھی پیا جا سکتا ہے۔ تاہم دن میں دو سے تین کپ سے زیادہ سبز چائے پینے سے گریز کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

ماہرین کی حتمی رائے کے مطابق کوئی ایک چائے سب کے لیے سب سے زیادہ صحت بخش نہیں ہوتی۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ چائے کس وقت اور کس مقصد کے لیے پی جا رہی ہے۔ دودھ والی چائے کھانوں کے درمیان، کالی چائے احتیاط کے ساتھ، جبکہ سبز چائے اعتدال میں روزمرہ استعمال کے لیے بہتر انتخاب ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق صحت کا دارومدار توازن اور اعتدال پر ہے۔