LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

اے آئی سے چلنے والی گاڑی بنا کر پاکستانی انجینئرز نے دنیا کو حیران کر دیا

Web Desk

14 December 2025

این ای ڈی یونیورسٹی کی سڑکوں پر آزمائشی مرحلے کے دوران یہ خودکار گاڑی بغیر کسی ڈرائیور کے رواں دواں نظر آئی، جس نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا۔ یہ منصوبہ تقریباً ایک سال قبل نیشنل سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے تحت ڈیپارٹمنٹ آف کمپیوٹر اینڈ انفارمیشن سائنسز میں شروع کیا گیا تھا۔

یہ گاڑی چین سے درآمد کی گئی الیکٹرک کار ہے جسے جدید اے آئی، روبوٹکس، میپنگ ٹیکنالوجی، سینسرز اور وژن الگورتھمز کی مدد سے مکمل طور پر خودکار بنایا گیا ہے۔

ایک سال کی مسلسل محنت کے بعد یہ منصوبہ اب عملی سطح پر پہنچ چکا ہے اور گاڑی کے روڈ ٹرائلز جاری ہیں۔

اس گاڑٰ کا اسٹیئرنگ کنٹرول ریڈار ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر وژن کے ذریعے تیار کر لیا گیا ہے، جبکہ آبجیکٹ ڈیٹیکشن، لین کی شناخت، رفتار کی حد اور ٹریفک سگنلز کی پہچان پر بھی کام جاری ہے۔

فی الحال گاڑی کی رفتار 15 سے 20 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود رکھی گئی ہے تاکہ مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

پروجیکٹ ٹیم کے مطابق یہ گاڑی ان چند خودکار گاڑیوں میں شامل ہے جو پاکستان کے بے ہنگم شہری ماحول میں چلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ مضبوط سینسر ٹیکنالوجی کی مدد سے گاڑی گڑھوں، ناہموار سڑکوں اور مقامی انفراسٹرکچر کے مسائل سے باآسانی نمٹ سکتی ہے۔