LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جسے مردِ آہن بنا کر پیش کیا گیا، آج اسی کی جماعت ہسپتال منتقلی کی فریاد کر رہی: وزیر دفاع آن لائن فراڈ کیس: 284 غیر ملکیوں کی حراست کیلئے نجی پلازہ دوبارہ سب جیل قرار حکومت اور اپوزیشن میں معقول دوریاں ہونی چاہئیں، مخالفت برائے مخالفت نہیں: مولانا فضل الرحمان وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کے پاکستان آفس کا افتتاح کر دیا سپریم کورٹ کا بانی کے علاج سے متعلق تحریری فیصلہ جاری، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، ایران کا شدید ردعمل پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، کاروبار کا منفی رجحان رہا پاکستان اور روس کے درمیان کلیدی شعبوں میں تعاون اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق سپریم کورٹ کا فیصلہ شاندار اور تاریخی، سیاسی بے چینی ختم ہوگی: شیخ رشید عدالتی حکم پر مکمل عمل، بانی کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے: پی ٹی آئی اسرائیل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ کر رہا ہے: عباس عراقچی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم نے 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، عطا تارڑ پیٹرول مزید مہنگا ہونے پر جماعت اسلامی کی کل ملک گیر ہڑتال کی دھمکی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیاں مکمل، ریکارڈ الیکشن کمیشن کو ارسال سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم

اے آئی سے چلنے والی گاڑی بنا کر پاکستانی انجینئرز نے دنیا کو حیران کر دیا

Web Desk

14 December 2025

این ای ڈی یونیورسٹی کی سڑکوں پر آزمائشی مرحلے کے دوران یہ خودکار گاڑی بغیر کسی ڈرائیور کے رواں دواں نظر آئی، جس نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا۔ یہ منصوبہ تقریباً ایک سال قبل نیشنل سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے تحت ڈیپارٹمنٹ آف کمپیوٹر اینڈ انفارمیشن سائنسز میں شروع کیا گیا تھا۔

یہ گاڑی چین سے درآمد کی گئی الیکٹرک کار ہے جسے جدید اے آئی، روبوٹکس، میپنگ ٹیکنالوجی، سینسرز اور وژن الگورتھمز کی مدد سے مکمل طور پر خودکار بنایا گیا ہے۔

ایک سال کی مسلسل محنت کے بعد یہ منصوبہ اب عملی سطح پر پہنچ چکا ہے اور گاڑی کے روڈ ٹرائلز جاری ہیں۔

اس گاڑٰ کا اسٹیئرنگ کنٹرول ریڈار ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر وژن کے ذریعے تیار کر لیا گیا ہے، جبکہ آبجیکٹ ڈیٹیکشن، لین کی شناخت، رفتار کی حد اور ٹریفک سگنلز کی پہچان پر بھی کام جاری ہے۔

فی الحال گاڑی کی رفتار 15 سے 20 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود رکھی گئی ہے تاکہ مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

پروجیکٹ ٹیم کے مطابق یہ گاڑی ان چند خودکار گاڑیوں میں شامل ہے جو پاکستان کے بے ہنگم شہری ماحول میں چلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ مضبوط سینسر ٹیکنالوجی کی مدد سے گاڑی گڑھوں، ناہموار سڑکوں اور مقامی انفراسٹرکچر کے مسائل سے باآسانی نمٹ سکتی ہے۔