LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جسے مردِ آہن بنا کر پیش کیا گیا، آج اسی کی جماعت ہسپتال منتقلی کی فریاد کر رہی: وزیر دفاع آن لائن فراڈ کیس: 284 غیر ملکیوں کی حراست کیلئے نجی پلازہ دوبارہ سب جیل قرار حکومت اور اپوزیشن میں معقول دوریاں ہونی چاہئیں، مخالفت برائے مخالفت نہیں: مولانا فضل الرحمان وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کے پاکستان آفس کا افتتاح کر دیا سپریم کورٹ کا بانی کے علاج سے متعلق تحریری فیصلہ جاری، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، ایران کا شدید ردعمل پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، کاروبار کا منفی رجحان رہا پاکستان اور روس کے درمیان کلیدی شعبوں میں تعاون اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق سپریم کورٹ کا فیصلہ شاندار اور تاریخی، سیاسی بے چینی ختم ہوگی: شیخ رشید عدالتی حکم پر مکمل عمل، بانی کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے: پی ٹی آئی اسرائیل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ کر رہا ہے: عباس عراقچی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم نے 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، عطا تارڑ پیٹرول مزید مہنگا ہونے پر جماعت اسلامی کی کل ملک گیر ہڑتال کی دھمکی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیاں مکمل، ریکارڈ الیکشن کمیشن کو ارسال سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم

حکومت کا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پاکستانی قوانین کی پابندی کیلئے الٹی میٹم

Web Desk

13 December 2025

حکومت نے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو آخری وارننگ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر انہوں نے پاکستانی قوانین کی مکمل پابندی نہ کی تو برازیل کے طرز پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری اور وزیر مملکت برائے قانون و انصاف عقیل ملک نے کہا ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں حکومت کے پاس برازیل جیسی کارروائی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا، پاکستان اس حوالے سے برازیل کے حالیہ کیس کو بطور مثال دیکھ رہا ہے۔

حکام کے مطابق برازیل میں 2024 کے دوران ٹوئٹر پرعارضی پابندی عائد کی گئی تھی کیونکہ پلیٹ فارم نے انتخابات سے متعلق غلط معلومات پھیلانے والے اکاؤنٹس کو ہٹانے سے انکار کیا تھا، بعد ازاں ایکس نے جرمانہ ادا کیا، مقامی نمائندہ مقرر کیا اور اس کے بعد پابندی ختم کی گئی۔

حکومتی حکام نے فیس بک، واٹس ایپ، یوٹیوب، ٹک ٹاک، ٹیلیگرام اور ایکس کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کریں، دہشت گردی سے متعلق اکاؤنٹس کی شناخت اور خاتمے کے لیے جدید اے آئی ٹولز استعمال کریں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آئی پی ایڈریس فراہم کریں اور ممنوعہ صارفین کو دوبارہ رجسٹر ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر فلٹرنگ سسٹم نافذ کریں۔

حکام کا کہنا ہے کہ متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس امریکی اور اقوام متحدہ کی جانب سے ممنوعہ قرار دی گئی تنظیموں سے منسلک پائے گئے ہیں، جن کی سرگرمیاں علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے ایکس کو خاص طور پر کم تعاون کرنے والا پلیٹ فارم قرار دیا ہے جبکہ ٹک ٹاک اور ٹیلیگرام نسبتاً بہتر تعاون کر رہے ہیں، حکام نے بتایا کہ 24 جولائی کو تمام پلیٹ فارمز کو تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی تاہم اس کے جواب میں موصول ہونے والا ردعمل غیر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔