LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیہون شریف: گیس پائپ لائن پھٹنے سے کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی سازش کا الزام، برطانیہ میں 2 ایرانی شہریوں پر فرد جرم عائد فرانس میں طلبا کا پرتشدد احتجاج، درجنوں سکول بند، پولیس سے جھڑپیں، کئی طالبعلم زخمی بلاول بھٹو کا حکومت اور اپوزیشن میں ملاقات کا خیر مقدم مونال ریسٹورنٹ گرانے کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز کے فیصلے پر نظرثانی کا تفصیلی فیصلہ جاری مذاکرات کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’’جناح ون‘‘ کب چاند پر اترے گی، تاریخ کا اعلان حج 2027 کیلئے واجبات کی دوسری قسط جمع کروانے کی تاریخ کا اعلان شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر 3 پولیس افسران ملازمت سے برطرف خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیلئے مکمل تیار ہیں: فیصل کریم کنڈی ملکی معاشی مسائل کا حل برآمدات بڑھانے میں ہے: محسن نقوی وزیراعظم کا صومالیہ میں جاں بحق 3 پاکستانیوں کے لواحقین کیلیے امداد کا اعلان آبنائے ہرمز میں کشیدگی، یورو زون میں مہنگائی 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ایران میں سڑک کنارے بم دھماکا، پاسداران انقلاب کے 5 اہلکار جاں بحق

ٹیلی کام سیکٹر کا بڑا انضمام؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلی نار پاکستان کی یوفون میں شمولیت کی اسکیم منظور کر لی

Web Desk

14 July 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلی کام سیکٹر میں ایک بڑے تاریخی فیصلے کے تحت ٹیلی نار پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (یوفون) میں انضمام (Merger) کی اسکیم کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے درخواست منظور کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کیا، جس کے مطابق ٹیلی نار کے تمام اثاثے، جائیدادیں، حقوق اور واجبات اب پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ کو منتقل ہو جائیں گے، جبکہ ٹیلی نار پاکستان بغیر کسی مزید کارروائی کے تحلیل شدہ تصور ہوگی۔ عدالتِ عالیہ نے واضح کیا کہ ایسے انتظامات کی اسکیموں میں عدالت کا اختیار محض نگران نوعیت کا ہوتا ہے اور کمپنیز ایکٹ 2017 کے تمام قانونی تقاضے پورے ہونے اور اسکیم کے منصفانہ، قانونی اور عوامی مفاد کے عین مطابق ہونے پر یہ منظوری دی گئی ہے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کو فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی رجسٹرار ایس ای سی پی (SECP) کے پاس جمع کرانے اور اسکیم کے نفاذ کے لیے تمام قانونی، ضابطہ جاتی اور مالی تقاضے پورے کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔