LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا ایران پر مزید دباؤ بڑھانے کا اعلان، نئی پابندیوں کا عندیہ اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ملاقات بلاول بھٹو 3 روزہ دورے پر مظفرآباد پہنچ گئے، پُرتپاک استقبال اردن کے عوام اپنی سرزمین سے امریکی اڈوں کے خاتمے کا مطالبہ کریں: پاسداران انقلاب شہباز شریف سے یو این سیکرٹری جنرل کی امیدوار مشیل باشلیٹ کی ملاقات شہداء کی قربانیوں کا نعم البدل دنیا کے خزانے بھی نہیں: بیرسٹر گوہر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ ترکیہ، صدر اردوان سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات، دفاعی تعاون پر گفتگو روم میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں مذاکرات کا آغاز یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کا خلیجی فضائی حدود میں پروازوں کے خطرات سے انتباہ دہشت گردی کے خلاف بحیثیت قوم نبرد آزما ہونا ہوگا: بیرسٹر سلمان اکرم راجہ پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ برقرار دہشت گردی ایک ناسور، ہمارے شہداء قوم کے ہیرو ہیں: بیرسٹر گوہر خان کی میڈیا سے گفتگو سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملے ناقابلِ قبول ہیں: وزیراعظم آبنائے ہرمز کے قریب بندر عباس میں پانچ دھماکوں کی آوازیں، ایرانی سرکاری ٹی وی کیش لیس معیشت سے شفافیت اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ ملے گا، وزیراعظم

ٹیلی کام سیکٹر کا بڑا انضمام؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلی نار پاکستان کی یوفون میں شمولیت کی اسکیم منظور کر لی

Web Desk

14 July 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلی کام سیکٹر میں ایک بڑے تاریخی فیصلے کے تحت ٹیلی نار پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (یوفون) میں انضمام (Merger) کی اسکیم کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے درخواست منظور کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کیا، جس کے مطابق ٹیلی نار کے تمام اثاثے، جائیدادیں، حقوق اور واجبات اب پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ کو منتقل ہو جائیں گے، جبکہ ٹیلی نار پاکستان بغیر کسی مزید کارروائی کے تحلیل شدہ تصور ہوگی۔ عدالتِ عالیہ نے واضح کیا کہ ایسے انتظامات کی اسکیموں میں عدالت کا اختیار محض نگران نوعیت کا ہوتا ہے اور کمپنیز ایکٹ 2017 کے تمام قانونی تقاضے پورے ہونے اور اسکیم کے منصفانہ، قانونی اور عوامی مفاد کے عین مطابق ہونے پر یہ منظوری دی گئی ہے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کو فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی رجسٹرار ایس ای سی پی (SECP) کے پاس جمع کرانے اور اسکیم کے نفاذ کے لیے تمام قانونی، ضابطہ جاتی اور مالی تقاضے پورے کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔