LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کی 40 روزہ جنگ کے دوران 3519 افراد جاں بحق ہونے کی تصدیق امریکا کے ساتھ عبوری معاہدے پر عملدرآمد تک مذاکرات نہیں ہوں گے: عراقچی ترکش پیٹرولیم پاکستان کے سمندروں میں آف شور ڈرلنگ کرنے جا رہی ہے: علی پرویز گڈز اور منی مزدا ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا دوسرا روز، گاڑیوں کی روانگی معطل افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے، حافظ نعیم پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد خصوصی نغمہ جاری مریم نواز سے ایم پی ایز کی ملاقات، سیاسی امور، عوامی فلاحی منصوبوں پر تبادلہ خیال کوسوو میں اپوزیشن رکن اسمبلی نے قائم مقام وزیراعظم پر انڈے پھینک دیے سعودی عرب اور یمن کی متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر حملے کی مذمت آزاد جموں و کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل ہوگا آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام، ڈاکٹر معید یوسف کی طلبہ کیساتھ خصوصی نشست نائجیریا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، 6ماہ سے جنگل میں قید 308 افراد بازیاب صدر کا قدیم مقامی باشندگان کے حقوق، ثقافت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں: سعودی عہدیدار

دہشت گردی ایک ناسور، ہمارے شہداء قوم کے ہیرو ہیں: بیرسٹر گوہر خان کی میڈیا سے گفتگو

Web Desk

14 July 2026

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اڈیالہ روڈ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے اور ہمارے شہداء قوم کے ہیرو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، اور دنیا کے تمام خزانے بھی شہداء کی قربانیوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں کو شہداء کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے، اور سیاست دانوں کو اپنے جوشِ خطابت میں الفاظ کے چناؤ میں احتیاط برتنی چاہیے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کے خطاب کے حوالے سے کہا کہ وہ شہداء پر ان کی گفتگو سے متفق نہیں ہیں۔

خارجہ امور اور پڑوسی ممالک پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بی ایل اے دراصل ہندوستان اور ‘را’ ہے اور پوری قوم ان کے خلاف متحد ہے۔ مئی 2025 کی پسپائی کے بعد ہندوستان پاکستان میں پراکسی وار شروع کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے افغانستان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 40 سال میں افغانستان نے پاکستان کو مایوس کیا، حالانکہ ہم نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا۔ اگر افغانستان کا ڈی این اے ہمارے دشمن سے ملتا ہے تو انہوں نے خود سوچنا ہے کہ ہمارے ساتھ کیسے چلنا ہے۔

داخلی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں سسٹم سے مایوس ہو کر باہر نکلی ہیں، اور اپنے بھائی کے لیے اسٹریٹ موومنٹ چلانا ان کا حق ہے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ علیمہ خان کے کیس میں جلد بازی نہ کی جائے کیونکہ بانی اور ان کے بھانجے کے بعد علیمہ خان کو بھی جیل میں ڈالنے سے اچھا تاثر نہیں جائے گا۔ بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ گزشتہ 270 دن سے بانی پی ٹی آئی سے کسی کی ملاقات نہیں ہو رہی، ہماری مانگ ہے کہ فیملی کی ملاقاتیں بحال کی جائیں۔

دوسری جانب، اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت ختم ہو گیا ہے اور کسی پارٹی رہنما یا فیملی ممبر کو ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی۔ علیمہ خان چترال میں ہونے کے باعث غیر حاضر تھیں کیونکہ انہوں نے پہلے ہی سب کو اڈیالہ روڈ آنے سے منع کیا تھا۔ تاہم، بانی کی دو بہنیں نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ نے نالے کے حفاظتی پشتے پر دھرنا دے رکھا ہے۔ اڈیالہ روڈ پر کارکنوں کی تعداد انتہائی کم ہے اور ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔