LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یمن نے صنعاء ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ملک کے تمام ہوائی اڈے بند کردیئے ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان، کارگو پر 20 فیصد فیس کا دعویٰ ایران، امریکا کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا ایران کا ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول سنبھالنے کے بیان پر ردعمل اسحاق ڈار سے اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کی امیدوار کی ملاقات موسلادھار بارشوں کا خدشہ، بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری تربیلا ڈیم سے اضافی پانی چھوڑنے کا امکان، پی ڈی ایم اے کا الرٹ برطانیہ نےایرانی پاسداران انقلاب فورس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا امریکا جلد آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال کر دنیا سے معاوضہ وصول کریگا: ٹرمپ بحرین کا ایران پر شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام، متعدد میزائل اور ڈرون تباہ ووٹرز لسٹوں سے مسلمانوں کے نام حذف: یواین نمائندوں کی بھارتی حکومت سے وضاحت طلب یورپی ممالک کا روس پر سائبر حملوں کا الزام، نئی پابندیاں عائد کردیں خواتین ترقی کی شراکت دار نہیں قیادت کا کردار ادا کریں: مریم نواز ایران امریکا تنازع ختم کرنے کی صلاحیت صرف پاکستان کے پاس ہے: صدر آذربائیجان شہباز شریف اور نوازشریف کی امیر قطر سے ملاقات، سابق امیر قطر کے انتقال پر تعزیت

پیمرا 8 کروڑ 75 لاکھ روپے سے زائد کے واجبات وصول کرنے میں ناکام

Web Desk

13 July 2026

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے مالیاتی امور سے متعلق آڈیٹر جنرل کی ایک تشویش ناک آڈٹ رپورٹ سامنے آئی ہے، جس کے مطابق پیمرا انتظامیہ 8 کروڑ 75 لاکھ روپے سے زائد کے واجبات وصول کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اتھارٹی کو مختلف خلاف ورزیوں پر عائد کیے گئے جرمانوں کی مد میں بھی 74 لاکھ روپے کی رقم وصول نہیں ہو سکی، جبکہ کیبل ٹی وی، سیٹلائٹ ٹی وی اور ایف ایم ریڈیو چینلز سے بقایاجات کی ریکوری بھی تعطل کا شکار ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے واجبات کی عدم وصولی کو پیمرا ترمیمی ایکٹ 2023 کی کھلی خلاف ورزی اور انتظامیہ کی سنگین غفلت قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، دستاویز کی تکمیل تک پیمرا انتظامیہ اس آڈٹ اعتراض کا کوئی معقول جواب دینے میں ناکام رہی۔ آڈٹ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ تمام بقایا واجبات کو فوری طور پر وصول کیا جائے اور مستقبل میں ریکوری کے نظام کو فول پروف اور مضبوط بنایا جائے۔