LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق بھارتی میڈیا مولانا فضل الرحمان کے بیان کو پاکستان کیخلاف استعمال کر رہا ہے،طارق فضل چوہدری مراکش کے امریکی صدر کے حمایت یافتہ غزہ بورڈ آف پیس کے معاہدے پر دستخط ایرانی چیمبر کا صدر مسعود پزشکیان سے باضابطہ ملک میں جنگی حالت کا اعلان کرنے کا مطالبہ سعودی شہر ریاض میں گیس سلینڈر کا دھماکا، 6 پاکستانی جاں بحق تہران اور واشنگٹن میں سخت گیر عناصر جنگ کو آگے بڑھا رہے ہیں: عرب میڈیا امریکی ایوان نمائندگان میں اسرائیلی فوجی امداد روکنے کی تجویز مسترد دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کا مسلسل دوسری مرتبہ فائنل میں پہنچنے پر بھرپور جشن جیرڈ کشنر، سٹیو وٹکوف مذاکرات میں مالی فائدے اٹھاتے رہے: جے ڈی وینس کو خفیہ پیغام موصول انسانی حقوق کی تنظیموں نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا انتونیو گوتریس کا امریکا و ایران میں بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار امریکا نے اہواز میں کینسر ہسپتال کے اطراف کے علاقوں کو نشانہ بنایا، حسین کرمان پور صدر ٹرمپ نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے پر غور شروع کر دیا، امریکی اخبار دبئی کے پانچ سالہ ملٹی پل انٹری سیاحتی ویزا کی شرائط میں نرمی کردی گئی ایران کی جانب سے داغے گئے 21 ڈرونز اور 4 کروز میزائل فضا میں تباہ کردیئے: کویت

روم میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں مذاکرات کا آغاز

Web Desk

14 July 2026

اٹلی کے دارالحکومت روم میں قائم امریکی سفارت خانے میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں اہم مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق، اسرائیلی اور لبنانی وفود بات چیت میں شرکت کے لیے امریکی سفارت خانے پہنچ چکے ہیں، جہاں ان مذاکرات کا بنیادی ایجنڈا جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا سے متعلق معاہدے پر حتمی پیش رفت کرنا ہے۔ لبنانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ اہم سفارتی بیٹھک منگل اور بدھ کے روز روم میں جاری رہے گی، جس میں امریکی ثالثوں کی موجودگی میں دونوں فریقین فریم ورک معاہدے پر عملدرآمد کے طریقہ کار اور آئندہ کے لائحہ عمل کا جائزہ لیں گے۔ واضح رہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ عسکری کشیدگی کے بعد امریکہ نے سرحدی صورتحال کو معمول پر لانے اور خطے میں طویل المدتی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔